پاکستان میں موجود کوئلے سے سعودی عرب سے زیادہ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے،فضل الرحمان، بلاول اور ن لیگ کیا چاہتے ہیں؟ زرداری کو کیسی جیل میں رکھا جائیگا، عمران خان نے اعلان کر دیا

  پیر‬‮ 22 جولائی‬‮ 2019  |  14:43

واشنگٹن (این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے وطن واپسی پر سابق وزیر اعظم نوازشریف کے سیل سے ٹی وی اور اے سی نکالنے کااعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آصف زرداری کو بھی اس جیل رکھیں گے جہاں ٹی وی اور نہ اے سی ہوگا،اپوزیشن جو بھی کر لے قوم کا پیسہ واپس کرنا پڑیگا،پیسہ واپس کر دو جیل سے نکال دینگے،پہلی دفعہ پاکستان کی اسمبلی ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے، فضل الرحمان، بلاول اور (ن)لیگ سب اکٹھے ہو گئے ہیں، ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ انہیں این آر او مل جائے، مجھے باہر سے بھی


سفارشیں بھجوائی ہیں،آج تک کبھی کسی کے سامنے جھکا ہوں اور نا اپنی قوم کو کبھی جھکنے دوں گا،آج پاکستان بن رہا ہے،آپ پاکستان کو تبدیل ہوتا دیکھیں گے اور ہر سال ملک اوپر جاتا رہیگا، پاکستان میں موجود کوئلے سے سعودی عرب سے زیادہ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے،پاکستان میں سارے تاجروں کو رجسٹرڈ ہونا پڑے گا، سب مل کر تھوڑا تھوڑا ٹیکس دیں تو پاکستان کو قرضوں کی دلدل سے نکالنا کوئی مشکل نہیں۔گزشتہ روز کیپیٹل ارینا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص نعمت کے طور پر ہمیں پاکستان دیا، کسی کو بھی اندازہ نہیں کہ پاکستان اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ پاکستان کو تبدیل ہوتا دیکھیں گے اور ہر سال ملک اوپر جاتا رہیگا۔وزیر اعظم نے کہا کہ انشاء اللہ پاکستانیوں کو کبھی شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں دو چیزیں ہوتی ہیں ہیں جو بادشاہت میں نہیں ہیں، جمہوریت میں میرٹ ہے جبکہ بادشاہت میں میرٹ نہیں ہوتی اور دنیا میں جن ممالک نے بھی ترقی کی میرٹ کی بنیاد پر کی جس ملک میں میرٹ کم تھا وہ پیچھے رہ گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر ایک اچھا بادشاہ ہو تو ضروری نہیں ہے کہ اس کا بیٹا بھی اچھا ہو، ہندوستان سپر پاور ہوا کرتا تھا، ایک سے ایک مغل بادشاہ آیا،اورنگزیب کے بعد جو اس کے بچے آئے لیکن کسی میں بھی صلاحیت نہیں تھی جس کے باعث مغل دور ختم ہو گیا۔ پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں قائداعظم کے بعد کیوں اچھا لیڈر نہیں ملا، ایک ذوالفقار علی بھٹو تھے لیکن پھر ہمارے ملک میں بھی ایک قسم کی بادشاہت آگئی۔انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کو ایک آمر نے اٹھا کر لیڈر بنا دیا جبکہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کاغذ کا ٹکڑا دکھا کر لیڈر بن گئے، ولی خاندان کا بھی یہی حال ہے، مولانا فضل الرحمان بھی اسی طرح لیڈر بنے اور اس کے بھائی اور بچے بھی لیڈر بن گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کیوں وزیراعلیٰ بن گئے کیونکہ وہ نواز شریف کے بھائی تھے۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں ملک کا سربراہ جواہدہ ہوتا ہے لیکن ہمارے ملک میں جب عدالت فیصلہ کرتی ہے تو کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا، جو آج پاکستان میں ہو رہا ہے یہ نیا پاکستان بن رہا ہے، ماضی میں کبھی ان لوگوں سے نہیں پوچھا گیا۔وزیراعظم نے کہا لوگ پوچھتے تھے کہاں ہے نیا پاکستان، آپ کے سامنے نیا پاکستان بن رہا ہے، جس سے پوچھو، سب کہتے ہیں عمران خان کرا رہا ہے، ان پر سارے کیسز پرانے ہیں، ہم نے کوئی کیس نہیں کیا، ہم نے صرف اداروں کو آزاد کیا ہے، نیب اور ایف آئی اے کو آزاد کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 1960 کی دہائی میں پاکستان پورے ایشیاء میں تیزی سے ترقی کر رہا تھا، ہماری بیوروکریسی پورے ایشیاء میں بہترین تھی، ہمارے سرکاری ہسپتالوں کا بہترین حال ہوا کرتا تھا اور پورے خطے میں پاکستان کی مثالیں دی جاتی تھیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے پاکستان کو آہستہ آہستہ نیچے آتے دیکھا، 1985کے بعد اصل تباہی شروع ہوئی اور پہلی دفعہ سیاست میں پیسہ آیا، رشوت چلنا شروع ہوئی، آج سب اکھٹے ہو گئے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ آج پہلی دفعہ پاکستان کی اسمبلی ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان، بلاول اور ن لیگ سب اکٹھے ہو گئے ہیں، ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ انہیں این آر او مل جائے، مجھے باہر سے بھی سفارشیں بھجوائی ہیں، ایک آدھ بادشاہ نے بھی مجھ سے ان کی سفارش کی ہے لیکن ہم نے طاقتور کا احتساب شروع کر دیا ہے کیونکہ ہم نے پاکستان میں میرٹ کا سسٹم لانا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں میرٹ نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو مواقع نہیں ملتے، ہمارا تعلیم کا نظام لوگوں کو اوپر نہیں جانے دیتا، کس ملک میں تعلیم کے تین سسٹم چلتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ امریکا میں لوگوں کو مواقع ملتے ہیں اور یہاں مزدوروں کے بچے اسکولوں میں مفت پڑھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان میں سرکاری اسکولوں کے سسٹم کو ٹھیک کر رہے ہیں، مدارس کے بچوں کو اوپر لانے کی کوشش کر رہے ہیں، 25 لاکھ بچے دینی مدارس میں جاتے ہیں، پاکستان میں تعلیم کا ایک نصاب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں میرٹ کا سسٹم تب آئے گا جب خاندانوں کی سیاست اور جاگیردرانہ نظام ختم ہو۔انہوں نے کہا کہ میرا کوئی دوست کسی عہدے پر نہیں ہے، مراد سعید کسی کا رشتے دار نہیں ہے، مراد سعید ایک طالبعلم تھا اور آج وزیر ہے۔وزیراعظم نے کہا مجھے خود اندازہ نہیں تھا کہ اللہ نے پاکستان کو کیا کیا دیا ہے، پاکستان کے پاس تانبے کے بے پناہ ذخائر ہیں، صرف ایک جگہ پر 200 ارب ڈالر کے تانبے کے ذخائر موجود ہیں لیکن ہمارا ملک صرف کرپشن کی وجہ سے پیچھے رہ گیا۔انہوں نے کہا کہ بڑی بڑی کمپنیاں پاکستان میں نہیں آتی تھیں، ہر بڑی کمپنی سے بات کی ہے، سب کہتے ہیں پاکستان میں پیسے مانگے جاتے ہیں، رشوت لی جاتی ہے۔انہوں نے کہاک 180 ارب ٹن کا کوئلہ پاکستان میں موجود ہے، اس کوئلے سے ہم سعودی عرب سے زیادہ بجلی بنا سکتے ہیں۔وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ آسٹریلیا کی ایک منرل کمپنی کے سرمایہ کار نے بتایا کہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں قدرتی وسائل ہیں لیکن کرپشن کی وجہ سے وہاں سرمایہ کاری نہیں کرتے، ہم کرپشن ختم کر کے پاکستان کو اوپر لا کر دکھائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ میرا خواب ہے ایک دن باہر سے دنیا پاکستان میں نوکریاں ڈھونڈنے آئے گی، مدینہ کی ریاست ایک ماڈرن اسٹیٹ تھی اور جدید اصولوں پر استوار تھی، پینشنز کا تصور پہلی مرتبہ مدینہ کی ریاست میں آیا، خواتین کو حقوق دینے کا تصور بھی مدینہ کی ریاست نے دیا۔انہوں نے کہا کہ افسوس سے کہتا ہوں کہ پاکستانی دیہات میں آج تک خواتین کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا، ایک قانون لے کر آ رہے ہیں جس میں خواتین کو جائیداد میں حصہ دینا پڑے گا۔انہوں نے کہاکہ مسلم دنیا واحد مثال ہے جہاں غلام لیڈر بنے، ہم نے پاکستان کو مدینہ کی ریاست کی طرح بنانا ہے اور مدینہ کی ریاست میرٹ کی وجہ سے اوپر گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں سارے تاجروں کو رجسٹرڈ ہونا پڑے گا، سب مل کر تھوڑا تھوڑا ٹیکس دیں تو پاکستان کو قرضوں کی دلدل سے نکالنا کوئی مشکل نہیں ہے، چار،چھ مہینے سال مشکل وقت ہے، اس سے نکل جائیں گے۔اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جو مرضی کرنا ہے کر لیں لیکن آپ کو قوم کا پیسا واپس کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کہتے ہیں گھر سے کھانا منگواؤں گا، کھانا اچھا نہیں ہے، کہتے ہیں ٹی وی لگا دو، اے سی لگا دو، جس طرح سے یہ لوگ جیل میں رہ رہے ہیں، یہ سزا تو نہ ہوئی، واپس جا کر جیل سے ٹی وی اور اے سی نکالوں گا۔انہوں نے کہاکہ مجھے پتا ہے مریم بی بی بہت شور مچائیں گی لیکن پیسا واپس کر دیں، یہ باہر آ جائیں گے۔پیپلز پارٹی کے صدر کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ آصف زرداری آپ کو بھی اس جیل رکھیں گے جہاں ٹی وی ہو گا اور نہ اے سی۔انہوں نے کہا کہ80 فیصد پاکستانیوں کے پاس تو اے سی نہیں ہے جبکہ 60 فیصد کے پاس ٹی وی بھی نہیں، اگر یہ سہولیات آپ کو جیل میں مل رہی ہیں تو پھر نصف پاکستانی تو خوشی سے جیل میں جائیں گے، یہ سزا تو نہیں ہوئی۔عمران خان نے کہا کہ جیل سے نکلنا بہت آسان ہے، پیسا واپس کرو، ہم آپ کو جیل سے نکال دیں گے۔انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی بار بار کہتے تھے کہ اگر میں نے کچھ غلط کیا ہے تو جیل میں ڈالو، دھرنا دیں یا احتجاج کریں لیکن آپ کو پیسہ واپس کرنا پڑیگا۔وزیراعظم نے کہا کہ فضل الرحمان اپوزیشن سے کہتے ہیں کیا ہم تب اکھٹے ہوں گے جب جیل میں ہوں گے تو انہیں کہتا ہوں ہاں فضل الرحمان، آپ سب جیل میں اکھٹے ہوں گے۔افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مجھے دہشت گرد اور طالبان خان کہا گیا لیکن آج ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے۔وزیراعظم نے پاکستانی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے مجھے بہت عزت دی ہے اس کے لیے آپ لوگوں کا دل سے بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں، میں نے سوچا تھا کسی ہوٹل میں کچھ لوگوں کو بلا کر بات کی جائے گی لیکن اتنی بڑی تعداد میں آپ لوگوں سے بات ہو رہی ہے یہ ایک نئی تاریخ ہے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کا نعرہ لگانے والے پاکستانیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ 22 سال سے وزیراعظم عمران خان کا نعرہ سنتا آ رہا ہوں لیکن اب میں وزیراعظم بن گیا ہوں آپ کو یقین ہو جانا چاہیے۔ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبہ رکنے کی تحقیقات کے لیے ہدایات دی ہیں۔انہوں نے کہاکہ اندازے کے مطابق ریکوڈک میں 200 ارب ڈالر کے معدنی ذخائر موجود ہیں، تھر میں 180 ارب ٹن کوئلے کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے مگر کرپشن کی وجہ سے غیر ملکی کمپنیاں معدنی ذخائر کو استعمال میں لانے کے لیے پاکستان نہیں آتیں۔خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے حاضرین سے سوال کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کیا باتیں کریں۔ان کا کہنا تھا کہ میں آپ کا مسئلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے رکھوں گا اور آپ کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔عمران خان نے عوام سے سوال کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے کیا سوال کروں؟ انہوں نے ازراہ تفنن کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرنے کے لیے جیب میں پرچیاں رکھ کر لایا ہوں جسے دیکھ کر میں باتیں کروں گا۔تقریب کے آغاز میں وزیراعظم عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد پر مبنی دستاویزی فلم دکھائی گئی جس میں ان کی کرکٹ سے لے کر وزیراعظم پاکستان بننے تک کی جدوجہد کا سفر دکھایا گیا۔

موضوعات:

loading...