عالمی عدالت کے فیصلے کو بھارت نے اپنی فتح قرار دے دیا، حیران کن ردعمل

  بدھ‬‮ 17 جولائی‬‮ 2019  |  19:54

ہیگ (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی جانب سے عالمی عدالت کے فیصلے کو بھارت کی فتح قرار دے دیا گیا، بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے عالمی عدالت کے فیصلے کو قبول کر لیا، واضح رہے کہ بھارت کی صرف قونصلر رسائی کی درخواست ہی منظور کی گئی ہے، اس کے علاوہ کلبھوشن یادیو کی رہائی، فوجی عدالت کی سزا کالعدم قرار دینے کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی ہے اور کلبھوشن یادیو پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا، سشما سوراج نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ہم عالمی عدالت کی جانب سے کلبھوشن یادیو کے بارے فیصلے کو


تسلیم کرتے ہیں، انہوں نے اپنے ٹوئٹر میں مزید کہا کہ یہ بھارت کی فتح ہے۔ اپنے ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کلبھوشن یادیو کا کیس لڑنے والے ہریش سلوے کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بھارت کی جانب سے عالمی عدالت میں اس کیس کو کامیابی سے پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے پیغام میں نریندر مودی کا بھی شکریہ ادا کیا، انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ یہ فیصلہ اتنی نرمی پیدا کرتاہے کہ کلبھوشن یادیو کے خاندان کے لوگ اب اس سے مل سکیں گے۔ واضح رہے کہ عالمی عدالت کے جج عبدالقوی احمد یوسف نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے رکن ہیں، مقدمے کی تفصیلی شقوں کی جانب نہیں جاناچاہتے، بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی مانگی ہے، جج نے بھارت اور پاکستان کی جانب سے وضعکیا جانے والا موقف بھی بیان کیا۔ جج نے کہا کہ کلبھوشن یادیو انڈین شہری ہے، پاکستان کا موقف ہے کہ ویانا کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا اس کے علاوہ پاکستان کا موقف ہے کہ اس کیس میں بھارت کو قونصلر رسائی نہیں دی جا سکتی، جج نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے خلاف مقدمہ اور سزا ویانا کنونشن کی خلاف ورزی نہیں ہے،کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں دہشت گردی کا مرتکب قرار دے دیا گیا، کلبھوشن یادیو کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ع المی عدالت نے کہا کہ پاکستان بھارت کو قونصلر رسائی دے، پاکستان کا آئی سی جی پر دائرہ اختیار پر اعتراض مسترد کر دیا گیا، ویانا کنونشن جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا،دہشت گرد کلبھوشن یادیو کی سزا ختم نہیں ہوگی اور وہ پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا۔بھارت کی جانب سے فوجی عدالت کے کلبھوشن یادیو بارے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کو بھی عالمی عدالت نے مسترد کر دیا ہے، بھارت کی جانب سے جاری کیا گیا کلبھوشن یادیو کو حسین کے نام کا پاسپورٹ بھی اصلی تھا اور اسی پاسپورٹ سے وہ 17 بار بھارت سے باہر گیا۔ اب کلبھوشن یادیو کا فیصلہ پاکستان میں ہی ہو گا، عالمی عدالت نے واضح طور پر کہا کہ کلبھوشن یادیو کو بھارت کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی عدالت نے کہا کہ پاکستان کی ہائی کورٹ کلبھوشن یادیو کے فیصلے پر نظرثانی کر سکتی ہے۔

loading...