وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ بھارت کیلئے پریشان کن قرار اربوں روپے کی سرمایہ کار کے باوجود بھارت ہاتھ ملتا رہ گیا بھارتی اخبارٹائمز آف انڈیا کا بڑا اعتراف، حیرت انگیز انکشاف

  بدھ‬‮ 17 جولائی‬‮ 2019  |  11:58

نئی دہلی(این این آئی) سفارتی محاذ پر ایک اور بڑی کامیابی ، اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے باوجود بھارت افغان امن عمل سے مکمل طور پر باہر ہوگیا، وزیر اعظم کے دورہ امریکا سے بھارت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔تفصیلات کے مطابق بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے افغان امن عمل سے بھارت کے مکمل طور پر باہر ہونے کو پاکستان کی سفارتی کامیابی تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کو بھارت کے لئے پریشان کن قرار دیدیا۔بھارتی اخبار نے تسلیم کیا کہ افغان امن عمل کے نتیجے میں پاکستان ، امریکہ اور روس اور چین


کے ساتھ مل کر طالبان کے ساتھ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے جا رہا ہے۔ دوسری جانب اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور گہرے مفادات وابستہ ہونے کے باوجود بھارت کے وجود کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا ہے۔ٹائمز آف انڈیا نے یہ بھی لکھا ہے کہ پورے افغان امن عمل میں ہندوستان دکھائی دیتا ہے نہ ہی اس کے تحفظات کا کوئی نشان ملتا ہے، تازہ صورت حال سے واضح ہے کہ پاکستان خطے میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور بھارت کو افغانستان کے مستقبل سے متعلق فیصلہ سازی کے عمل سے باہر کر دیا گیا ہے۔اخبار نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اس خطے کی جیوپولیٹکس میں سینٹر سٹیج کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اس حوالے سے بھارتی تشویش پر کسی بھی سطح پر سنجیدگی کا اظہار نہیں کیا جا رہا ہے۔بھارتی سرکار نے امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مذاکراتی عمل زلمے خلیل زاد اور روسی حکام کے سامنے بھی اپنا نکتہ نظر رکھا ، تاہم دال گلتی دکھائی نہ دی۔ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کی نئی دہلی آمد کے موقع پر بھی بھارت نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ بھارت کا موقف ہے کہ گزشتہ 18 برس کے دوران بھارت نے افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے جو افغان امن معاہدے کے بعد خطرے کی زد میں ہوگی۔ٹائمز آف انڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان صورتحال سے مکمل مطمئن اور پوری طرح خوش دکھائی دے رہا ہے، امریکہ اور اس کے اتحادی سعودی عرب، امارات اور قطر پاکستان کی بھرپور امداد کررہے ہیں، آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے لیے امدادی پیکج جاری کردیا ہے۔چین اور پاکستان بھی ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے ہیں مگر بھارت منظر سے غائب ہے۔ پاکستان نے اپنے آپ کو خطے کے لئے اہم اور ناگزیر ملک ثابت کیا ہے۔بھارتی اخبار نے لکھا کہ امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف متعدد ٹویٹس کے باوجود وہ واشنگٹن میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے استقبال کے لئے تیار ہیں۔ یہ تمام صورتحال بھارت کے لیے انتہائی پریشان کن ہے اور پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی گواہی دیتی ہے۔بھارت میں تعینا ت پاکستان کے سابق سفیر عبد الباسط کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بھارت کی موجودگی کا مقصد انویسٹمنٹ سے زیادہ پاکستان کے صوبے بلوچستان اور سی پیک منصوبے کو ڈی اسٹیبلائز کیا جائے ، ان اہداف کو حاصل کرنے میں بھارت بری طرح ناکام رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کامیابی کے باوجود ہمیں احتیاط کرنی چاہیے کہ ابھی بھی افغانستان کی بھاری انویسٹمنٹ ہے اور افغان انٹیلی جنس نیٹ ورک میں اسکا بے پناہ اثر و رسوخ ہے جس کے ذریعے وہ مستقبل میں ہمیں پریشان کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ بھارت نے شروع سے اینٹی طالبان بیانیہ اپنایا جس کی بنا پر وہ اس معاہدے سے باہر ہے جبکہ پاکستان نے افغان حکومت اور افغان طالبان سمیت سب وہاں کے تمام گروہوں سے متوازن تعلقات رکھے جس کے سبب آج پاکستان سینٹر اسٹیج پر ہے اور امریکا سمجھتا ہے کہ مذاکرات میں بھارت کی موجودگی افغان امن عمل کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

موضوعات:

loading...