پیر‬‮ ، 20 اپریل‬‮ 2026 

عمران خان کو دورہ امریکہ میں توپوں کی سلامی دی جائیگی نہ ہی تحائف کا تبادلہ ہوگا،اعزازی تقریب بھی نہیں ہوگی،وزیر اعظم پاکستان کا دورہ سفارتی سطح پر کس درجے کا ہو گا؟جان کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

datetime 14  جولائی  2019 |

اسلام آباد( آن لائن ) وزیر اعظم عمران خان کا دورہ امریکا سفارتی سطح پر تیسرے درجے کے دورے میں شمار ہوگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس درجہ سوم کے دورے کو ’آفیشل ورکنگ وزٹ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ پہلے نمبر پر ’اسٹیٹ وزٹ ‘ ہوتا ہے جس کی دعوت امریکی صدر کی جانب سے صرف صدور یا بادشاہوں کو دی جاتی ہے۔

اس میں حکومت کا سربراہ یا وزیر اعظم شامل نہیں ہوتا۔اس نوعیت کے دورے کم ہی ہوتے ہیں۔ اس دورے کے دوران غیر ملکی مہمانوں کو وائٹ ہاؤس سے چند میٹر دور واقع بلیئر ہاؤس میں 4 روز اور تین راتوں تک ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس درجہ اول کے دورے کے دوران امریکی صدر کی جانب سے غیر مْلکی سربراہان کو عشائیے میں مدعو کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر اعزازی تقریبات کا اہتمام بھی ہوتا ہے اور معزز مہمان کو 21 توپوں کی سلامی پیش کی جاتی ہے۔جبکہ تحائف کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔ اس موقع پر منعقد تقریبات میں میڈیا نمائندے بھی شرکت کر سکتے ہیں۔ دوسرے درجے کے دورے کو آفیشل وزٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ جو ریاست کے سربراہ کے لیے مخصوص ہے۔ یہ دورہ بھی امریکی صدر کی دعوت پر کیا جاتا ہے۔ یہ درجہ بھی پہلے درجے کی طرح کا ہوتا ہے تاہم اس میں سربراہِ مملکت کو 21 کی بجائے 19 توپوں کی سلامی دی جاتی ہے۔جبکہ تیسرے درجے کا دورہ آفیشل ورکنگ وزٹ کہلاتا ہے۔ اس دورے کی دعوت امریکی صدر کی جانب سے کسی ریاست کے سربراہ یا سربراہ حکومت کو دعوت دی جاتی ہے۔اس دورے کے دوران غیر مْلکی مہمان کو بلیئر ہاؤس میں 3 دِن اور 2 رات کے لیے ٹھہرایا جاتا ہے۔

عمران خان بھی اسی سطح پر آفیشل ورکنگ وزٹ’ پر امریکا کا دورہ کریں گے جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہائوس میں ملاقات کریں گے۔اس درجے میں غیر مْلکی سربراہ کو عشائیہ دیا جانا لازمی نہیں ہے۔ البتہ امریکی صدر سے ملاقات کے بعد غیر ملکی سربراہ کو ظہرانہ دیا جاتا ہے جس میں امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ شرکت کرتے ہیں۔ تاہم سربراہان کی اہلیہ ظہرانے میں شرکت نہیں کرتیں اور نہ ہی تحائف کے تبادلے ہوتے ہیں۔اس درجے میں غیر ملکی سربراہ کی وائٹ ہائوس آمد اور روانگی پر اعزازی تقریبات کا انعقادنہیں کیا جاتا اور نہ ہی توپوں کی سلامی دی جاتی ہے۔ اس درجے میں صحافیوں کو بس چند تصاویر لینے کی اجازت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی کبھار امریکی صدر اور غیر مْلکی سربراہ کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہو جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…