جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

حکومت سے ٹی وی پر تقریر کروانی تو کروا لیں کام نہیں، کوئی بیورو کریٹ ڈر کی وجہ سے ٹھیک کام بھی کرنے کیلئے تیار نہیں، ہائیکورٹ حکومت پر برس پڑی

datetime 3  جولائی  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملازمت اپ گریڈ یشن کیس میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے ملازم کے ریگولرائزیشن کیس کی رپورٹ طلب کرلی جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت سے ٹی وی پر تقریر کروانی تو کروا لیں کام نہیں، کوئی بیورو کریٹ ڈر کی وجہ سے ٹھیک کام بھی کرنے کیلئے تیار نہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی کی ملازمت اپ گریڈ یشن کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت سے ٹی وی پر تقریر کروانی تو کروا لیں کام نہیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ کوئی بیورو کریٹ ڈر کی وجہ سے ٹھیک کام بھی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہاکہ پبلک سرونٹس کو پتہ ہے وہ پانچ سال بعد نیب کے کیس بھگت رہا ہوگا۔ جسٹس کیانی نے کہاکہ پچھلے پانچ سال والے پبلک سرونٹ اب کیس بھگت رہے ہیں،صحیح کام میں بھی غلطی ہوجاتی ہے کوئی پبلک سرونٹ غلطی کرنا نہیں چاہتا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ ہم نے ایڈمنسٹریٹو آرڈرز بھی نیب کے دائر کار میں دے دئیے، اگر کوئی بیوروکریٹ 100 آرڈر کرتے ہوں گے تو کچھ غلط بھی ہوسکتاہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ ایڈمنسٹریٹو کام مختلف اور نیب کرپشن مختلف لیکن ہم نے دونوں ملا دئیے۔جسٹس کیانی نے کہاکہ نائب قاصد کا کیس بھی نیب کے پاس ڈی جی کا کیس بھی نیب کے پاس ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ اس طرح کیسے کام آگے بڑھے گا۔عدالت نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے ملازم کے ریگولرائزیشن کیس کی رپورٹ طلب کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…