جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

منی لانڈرنگ اور کرپشن میں ملوث اراکین پارلیمنٹ کے ”پروڈکشن آرڈرز“ پر جیل سے نکلنے کے ارمان خاک میں مل گئے، سیاسی قیدیوں کا پروٹوکول بھی ختم، دھماکہ خیز احکامات جاری

datetime 2  جولائی  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے وزارت قانون کو پروڈکشن آرڈرز رولز میں ترمیم لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ اور کرپشن میں ملوث ملزمان کے پروڈکشن آرڈرجاری نہیں ہونے چاہئیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے اراکین پارلیمنٹ کے پروڈکشن آرڈر سے متعلق قوانین میں ترمیم کی ہدایت کردی۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرپشن میں سزایافتہ افراد کو وی آئی پی جیل میں نہ رکھا جائے کیونکہ نئے پاکستان میں سارے قیدیوں سے برابر سلوک ہوگا اور بدعنوانی میں ملوث ملزمان کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری نہیں ہونے چاہیئں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے وزارت قانون کو پروڈکشن آرڈرز رولز میں ترمیم لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پروڈکشن آرڈرز سیاسی قیدیوں کے لئے ہوتے ہیں اس لیے بدعنوانی میں ملوث ملزمان کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری نہیں ہونے چاہیئں، قومی خرانے میں خردبرد کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے سید زبیر گیلانی کو چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ کی تقرری کی منظوری دے دی جب کہ 40فیصد پرائیویٹ حج کوٹہ واپس لینے کی بھی منظوری دی گئی، اضافی کوٹے میں سے پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کو دیے جانے والا کوٹہ سرکاری اسکیم میں شامل ہوگا۔ واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کے صدر آصف علی زرداری کی جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتاری کے بعد پیپلزپارٹی نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا تاہم حکومتی ارکان کی جانب سے پروڈکشن آرڈر کے اجرا پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے بھی بجٹ سیشن میں اظہار خیال کے دوران کہا کہ منی لانڈرنگ اور کرپشن کے الزام میں گرفتار افراد کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہونی چاہئیں اور انہیں پارلیمنٹ میں آکر بات کرنے کا بھی موقع نہیں ملنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…