جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

 وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس،”سمگلنگ“کی روک تھام کے حوالے سے مختلف امورپر غور،سینئر ملٹری اور سویلین افسران کی شرکت،اہم فیصلے

datetime 1  جولائی  2019 |

اسلام آباد(این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ سمگلنگ کے ناسور نے ملکی معیشت کوبھاری نقصان پہنچایا ہے،صنعتی عمل کو فروغ دینے کی حکومتی کوششوں کو بارآور بنانے کے لئے ضروری ہے کہ سمگلنگ کے ناسور پر موثر طریقے سے قابو پایا جائے۔ پیر کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت سمگلنگ کی روک تھام کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں اجلاس میں وزیرِ داخلہ برگیڈئیر (ر) اعجاز احمد شاہ، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد،

معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی، سیکرٹری داخلہ میجر (ر) اعظم سلیمان، سیکرٹری کامرس احمد نواز سکھیرا، چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ، چیف سیکرٹری بلوچستان و دیگر سینئر ملٹری اور سویلین افسران شریک ہوئے  اجلاس میں سمگلنگ کی وجہ سے ملکی معیشت کو درپیش مسائل اور اسکے نتیجے میں ملکی صنعت کو پہنچنے والے نقصانات پر کامرس، وزارتِ داخلہ اور ایف بی آر کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ سمگلنگ کے ناسور نے ملکی معیشت کوبھاری نقصان پہنچایا ہے۔ صنعتی عمل کو فروغ دینے کی حکومتی کوششوں کو بارآور بنانے کے لئے ضروری ہے کہ سمگلنگ کے ناسور پر موثر طریقے سے قابو پایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک کوقرضوں کی دلدل سے نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ جہاں  ایک طرف زراعت کو ترقی دی جائے وہاں  دوسری طرف صنعتی شعبے کو بھی فروغ دیا جائے جس کے لئے ضروری ہے کہ سمگل شدہ اشیا کی درآمد اور خرید و فرخت کی یکسر روک تھام کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جہاں ایک طرف روزمرہ استعمال کی اشیاء  کی سمگلنگ کی روک تھام سے پہلو تہی کی گئی وہاں ملک سے غیر قانونی طور پر زرمبادلہ کی سمگلنگ کو بھی اعلیٰ شخصیات کی سر پرستی حاصل رہی جس کے نتیجے میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی واقع ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صنعت کی بحالی و ترقی کے لئے مفصل اقدامات کیے ہیں اور سمگلنگ کی روک تھا م انہی اقدامات کا اہم حصہ ہے۔  اجلاس میں پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو منظم کرنے کے لئے کیے جانے والے اقدامات، پاک ایران بارڈر کے ذریعے تیل و ڈیزل کی سمگلنگ  کی حوصلہ شکنی،مغربی سرحدوں پربسنے والے افراد کی تجارتی سرگرمیوں و دیگر اہم معاملات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں وزیرِ داخلہ کی سر براہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کے فیصلہ۔ کمیٹی وزارت داخلہ، کامرس ڈویڑن، ایف بی آر، فنانس ڈویڑن،صوبائی حکومتوں کے نمائندوں اوردیگر متعلقین پر مشتمل ہوگی۔کمیٹی سمگلنگ کے حوالے سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیکراسکی موثر روک تھام خصوصا سرحدوں کی موثر نگرانی، پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈکے غلط استعمال کی روک تھام،موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم اور دیگرمتعلقہ معاملات کا تفصیلی جائزہ لے کر ایک ماہ میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…