جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

رانا ثناء اللہ نے آخری ملاقات میں کس خدشے کا اظہار کیاتھا؟،کیا اے این ایف رانا ثناء اللہ کے خلاف الزام ثابت کر سکے گی اور کیا یہ گرفتاری کسی جرم کی وجہ سے ہوئی یا پھر یہ بھی سیاسی گرفتاری ہے؟ جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 1  جولائی  2019 |

استاد دامن پنجابی کے بہت بڑے شاعر تھے‘ کدی لاڑکانہ تے کدی مری جانا ایں‘ کی کری جانا ایں‘ کی کری جانا ایں‘ استاد دامن نے ایسی سینکڑوں نظمیں لکھیں اور پڑھیں‘ ایوب خان کا دور تھا‘ حکومت استاد سے ناراض ہو گئی‘ استاد پرانے لاہور شہر میں ایک کچی کوٹھڑی میں رہتا تھا‘ پولیس نے کوٹھڑی پر چھاپا مارا اور استاد پر بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے کا مقدمہ بنا دیا‘  کسی نے اس دور میں استاد دامن سے پوچھا‘

استاد جی پولیس نے آپ کی کوٹھڑی سے پستول برآمد کر لیا‘ استاد نے ہنس کر جواب دیا‘ میری کوٹھڑی کا دروازہ تنگ تھا ورنہ پولیس اس سے توپ بھی برآمد کر لیتی‘ آج اے این ایف نے موٹر وے پر سکھیکی کے قریب پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر اور ایم این اے رانا ثناء اللہ کی گاڑی روک کر ان سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر لی، ملک کی کوئی سیاسی جماعت‘ کوئی سیاسی کارکن اور عام لوگ اے این ایف کا یہ دعویٰ ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں‘ لوگ کہتے ہیں رانا ثناء اللہ کو ان خیالات کی سزا بھگتنا پڑ رہی ہے، رانا صاحب 13 مئی کو آخری بار ہمارے پروگرام میں آئے تھے‘ رخصت ہوتے وقت انہوں نے مجھ سے کہا تھا‘ یہ شاید آپ کے ساتھ میرا آخری پروگرام ہو‘ میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل رہا‘ مجھے خطرہ ہے میں اگر گرفتار نہ ہوا تو مجھے مروا دیا جائے گا‘ رانا ثناء اللہ کو صرف شک نہیں تھا بلکہ انہیں اس کا یقین بھی تھا چناں چہ انہوں نے اپنے گارڈز بھی تبدیل کر لیے تھے اور اپنی سیکورٹی بھی بڑھا دی تھی اور اس سے ان کے اردگرد موجود تمام لوگ واقف تھے لہٰذا کوئی شخص اے این ایف کے موقف سے اتفاق نہیں کرے گا‘ یہ کیس بھی فیوچر میں نواز شریف کے ہائی جیکنگ کیس اور چودھری ظہور الٰہی کے خلاف بھینس چوری کا مقدمہ ثابت ہوگا‘ یہ گرفتاری ریاست اور حکومت دونوں کو اخلاقی لحاظ سے کمزور کردے گی۔ کیا اے این ایف رانا ثناء اللہ کے خلاف الزام ثابت کر سکے گی اور کیا یہ گرفتاری کسی جرم کی وجہ سے ہوئی یا پھر یہ بھی سیاسی گرفتاری ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…