جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مجھے کہا گیا کہ کرکٹر نہیں بن سکتے، ہسپتال نہیں بنا سکتے، وزیراعظم بھی نہیں بن سکتے، میں نے یہ سب کر دکھایا، اب عوام کے لیے کیا کروں گا؟ عمران خان نے مخالفین کو چیلنج کر دیا

datetime 28  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں چالیس سال سے پبلک کی نظر میں ہوں، جو بھی میں نے چیز کرنے کی کوشش کی لوگوں نے ہمیشہ کہا کہ میں یہ نہیں کر سکتا، میں جب کھلاڑی تھا تو میرے کزن مجھ سے زیادہ بہتر تھے، لوگوں نے کہا کہ نہیں بن سکتا، لوگوں نے کہا کہ ہسپتال نہیں بن سکتا، پھر لوگوں نے کہا کہ ٹو پارٹی سسٹم میں نئی پارٹی نہیں آ سکتی،

میں وزیراعظم نہیں بن سکتا، یہ سب کچھ میں سنتا آیا ہوں اور میں نے یہ سب کر دکھایاہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی چیز ناممکن نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ کوئی چیز ناممکن نہیں یہ میری زندگی کا فلسفہ ہے، اسے ذہن میں ڈال لیں، جب کوئی قوم ارادہ کرتی ہے تو بڑی قوم بن جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ کئی قومیں ہم سے بری حالت میں تھیں انہوں نے خود کو ثابت کیا، وزیراعظم نے کہا کہ جرمنی اور یورپ میں دوسری جنگ عظیم میں تباہی مچی ہوئی تھی وہاں ایک عمارت سلامت نہیں تھیں لیکن انہوں نے دس سالوں میں سب کر دکھایا۔ اس لیے کوئی چیز ناممکن نہیں، انہوں نے کہا کہ یہ نہیں کہ عام آدمی قربانیاں دے اور ہماری طرح کے حکمران عیاشیاں کریں، ایسے کبھی کوئی قوم کھڑی نہیں ہوئی، وزیراعظم عمران خان نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک گدھا تقریر کر رہا ہوتاہے سامنے بھیڑ بکریاں کھڑی ہوتی ہیں وہ کہتا ہے کہ بہنوں اور بھائیوں ملک کو پھر آپ کی قربانی کی ضرورت پڑ گئی ہے، بھیڑ بکریاں بے چاری ہر بڑی عید پر ویسے ہی قربان ہوتی ہیں، مشکل وقت میں کالے بکرے کی قربانی دی جاتی ہے وہ پہلے ہی کانپ رہے ہوتے ہیں، گدھا کہتاہے کہ میں بھی قربانی دینا چاہتا ہوں لیکن میری قربانی جائز نہیں میں تو گدھا ہوں، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب حکمران قربانی نہیں دیتا تو قوم قربانی نہیں دیتی، مشکل وقت میں جب بھی قومیں نکلی ہیں تو جو لیڈر ہوتا ہے وہ اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا ہے یعنی وہ خود اپنے سے شروع کرتاہے،

یہ پہلی دفعہ ہے پاکستان میں وفاقی کابینہ میں اپنے اخراجات دس فیصد کم کیے۔وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات بھی کم ہیں کیونکہ میں وہاں رہتا ہی نہیں ہو۔یہ کام ہم اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ قوم مشکل میں ہے۔اسی طرح پاک فوج نے بھی اپنے بجٹ میں کمی کی اور یہ قوم اسی طرح ترقی کرے گی۔وزیراعظم نے مزید کہاکہ وزیراعظم ہاؤس صرف ہم نے فنکشنز اور گیسٹ ہاؤسز کے لیے رکھا ہوا ہے، وزیراعظم ہاؤس کے گراؤنڈز پر انشاء اللہ یونیورسٹی بناؤں گا،

میں اپنے گھر میں رہتا ہوں، اپنا خرچہ کرتاہوں، نیچے سڑک ٹھیک کرانی تھی اپنے پیسے سے کرائی، کوئی کیمپ آفس نہیں ہے، یہ ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ ہمارا ملک مشکل میں ہے، پہلی دفعہ پاکستان کی فوج نے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا ہے، ہمارے دشمن ملک دفاعی بجٹ بڑھا رہے ہیں، انہوں نے حکومت کو دیکھتے ہوئے کہ ہم کیا کر رہے ہیں انہوں نے اپنے خرچے کم کیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قوم مل کر لڑے گی، مشکل وقت تھا مشکل وقت آنا تھا، میں نے اپنی پہلی تقریر میں آپ کے سامنے صرف ایک ہی چیز کہی

جب ایک گھر مقروض ہو جاتا ہے جب وہ اپنی آمدنی بڑھاتا نہیں اور خرچے کم نہیں کرتا وہ اس مشکل وقت سے نہیں نکلتا اور جب تک وہ آمدنی نہیں بڑھتی ایک مشکل وقت سے گھر گزرتا ہے، ہماری طرح اور بھی ملک تھے جو ان مشکلوں سے گزرے ہیں قوموں پر مشکل وقت آتا ہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ہم انشاء اللہ اس سے نکل آئیں گے لیکن ہم زیادہ تگڑے ہو کر نکلیں گے ہم اپنے ملک میں اصلاحات کرکے نکلیں گے، ہم اپنے خرچے اور فضول خرچی کم کرکے اپنی آمدنی بڑھائیں گے۔ ہم اپنے ملک میں اپنے بزنس اور انڈسٹری کو اوپر اٹھائیں گے۔ ہم اپنے سسٹم میں جو اصلاحات کریں گے وہ اس قوم کو اٹھائیں گی۔ مشکل وقت کئی دفعہ اللہ پاک اصلاح کے لیے بھیجتا ہے، وہ کہتا ہے کہ آپ غلط راستے پر لگے ہوئے ہو اپنی اصلاح کرو۔ انشاء اللہ ہم اس سے نکل جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…