جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف اور آصف غفور کی موجودگی پر منفی پراپیگنڈہ میچ عوام کے پیسوں سے دیکھا یا انیل مسرت نے سپانسر کیا؟ ترجمان پاک فوج نے ناقدین کے سوالوں کا منہ توڑ جواب دیدیا

datetime 24  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ گزشتہ روز پاکستان اور سائوتھ افریقہ کا میچ دیکھنے کیلئے اسٹیڈیم میں پہنچے ، آرمی چیف کی شرکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ، کچھ صارفین نے قومی ٹیم کی جیت کا کریڈٹ آرمی چیف کو دیا ۔ جہاں ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور اور آرمی چیف قمر باجوہ کی تعریفیں کی جارہی تھیں وہیں ٹویٹر پر کچھ لوگوں نے

منفی پراپیگنڈہ شروع دیا ۔ کچھ صارفین کا کہنا تھاکہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے لندن جانے کے ٹکٹ تحریک انصاف سے تعلق برطانوی نژاد پاکستانی بزنس مین انیل مسرت نے ارینج کیا ۔جس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پیغام جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اسٹیڈیم میں موجود ہر پاکستانی نے ہماری میزبانی کی خواہش ظاہر کی، منفی پراپیگنڈہ کرنے والوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ میرے پاس کئی قانونی آپشنز موجود ہیں لیکن میں آپ کی منفی سوچ کونظر انداز کر رہا ہوں کیونکہ یہ وقت معاف کرنے کا اورجشن منانے کا ہے۔ایک اور صارف بشری گوہر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا پاک آرمی کےچیف اور باقی جنرلز پاکستان کا میچ دیکھنے کیلئےذاتی دورہ پر انگلینڈ گئے ، اس دورے کے اخراجات کس نے برداشت کیے ، امید کرتی ہوں یہ پیسہ پاکستانی عوام کے ٹیکس ے ادا نہیں کیا گیا ہو گا ، جس کے جواب دیتے ہوئے ڈی آئی ایس پی آر نے لکھا کہ میری آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ آپ کو ایسے سوالات سے گریز کرنا چاہیے ، بلکہ آپ پاکستان کی جیت پر جشن منائیں ، کوشش کریں کہ پاکستان کے اگلے میچ میں شرکت کریں اور اپنی ٹیم کو سپورٹ کریں ، اگر چاہیں تو میری مہمان بن کر آ سکتی ہیں۔سوشل میڈیا پر چلائے جانے والی منفی پراپیگنڈے کو پاک فوج نے مسترد کرتے ہوئے انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ کسی بھی منفی پرپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہیں ۔ ترجمان پاک فوج کے دو ٹوک جواب پر صارفین نے سراہاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…