جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

چینی کمپنی کو اورنج ٹرین کے انتظام و انصرام کا ٹھیکہ منسوخ جانتے ہیں وجہ کیا بنی؟وزیر اعلیٰ ہائوس نے تفصیلات جاری کردیں

datetime 23  جون‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن ) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے میں ’بے قاعدگیوں‘ کے پیش نظرانتظام وانصرام کا ٹھیکہ منسوخ کردیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پنجاب ماس ٹرانزٹ اٹھارٹی (پی ایم ٹی اے) کے سربراہ ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ ہاؤس کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین کو

چلانے اور انتظامات سنبھالنے کے لیے چینی کمپنی کو تفویض کردہ تقریباً 60 ارب روپے کا ٹھیکہ قانونی اور تکنیکی بنیادیوں پر منسوخ کیا گیا۔چینی کمپنی کو مذکورہ ٹھیکہ 10 برس کے لیے دیا گیا تھا۔اس حوالے سے بتایا گیا پی ایم ٹی اے کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر سبطین فضل حلیم نے ٹھیکے کے دستاویزات تیار کروائے تھے اور6 ماہ قبل ہی ان کی مدت پوری ہوئی تھی۔بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر انہیں مزید توسیع نہیں دی گئی۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ اورنج ٹرین کو چلانے اور انتظامات سنبھالنے سے متعلق ٹھیکے کے قوائد و ضوابط کو متعلقہ حکام سے منظور نہیں کرایا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ چینی کمپنی کو منتخب کرنے کے بعد اس کی منظوری لے لی گئی تھی۔ذرائع نے بتایا کہ متعلقہ اتھارٹی کے مختلف محکموں اور اداروں نے ٹھیکے کے قانونی اور مالیاتی شعبوں کا جائزہ لیا اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آراے) نے گزشتہ ہفتے ٹھیکہ منسوخ کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے ماتحت کمیٹی کے چیئرمین نے بھی ٹھیکہ تفویض کرنے کے عمل میں بعض مسائل کی جانب اشارہ کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ ’اورنج ٹرین منصوبے کے انتظام و انصرام چلانے کے لیے ٹھیکہ کی حد مدت 5 برس تھی لیکن چینی کمپنی کو 10 برس کا ٹھیکہ دے دیا گیا ۔

علاوہ ازیں آپریشن اخراجات بھی غیرمعمولی زیادہ تھے جبکہ پورا منصوبہ صوبائی حکومت کی ملکیت ہے، یہاں تک کہ ٹرین بھی پنجاب کی ملکیت ہے‘۔خیال رہے کہ پنجاب ماس ٹرانزٹ اٹھارٹی (پی ایم ٹی اے) کو از سرنو ترتیب دیا گیا جس میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ، 2 اراکین قومی اسمبلی، 4 اراکین صوبائی اسمبلی، سیکریٹری فنانس اور ٹرانسپورٹ، پی ایند ڈی چیئرمین اور سابق ٹرانسپورٹ سیکریٹری شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…