جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ججز کیخلاف ریفرنس، دوسری سماعت کب ہوگی؟تاریخ کا اعلان کردیا گیا

datetime 22  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(اے این این ) سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی)سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کریم خان آغا کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت 2 جولائی کو کرے گی۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور خان سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس کے بارے میں حکومتی موقف سے آگاہ کریں گے۔

کونسل نے ریفرنس کی پہلی سماعت 14 جون کو کی تھی جبکہ وکلا نے پاکستان بار کونسل(پی بی سی)کی کال پر عدالتی کارروائی کا احتجاجا بائیکاٹ کیا لیکن وکلا کے ایک دھڑے سے اس سے لاتعلقی کا اعلان بھی کیا تھا۔مذکورہ سماعت کے بعد کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں البتہ 15 جون کو سپریم کورٹ کے دفتر تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے صرف اس بات کی تصدیق کی تھی کہ دونوں ججز کے خلاف ریفرنسز سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہیں۔بیان میں بتایا گیا تھا کہ ایس جے سی کو 426 ریفرنسز اور شکایات موصول ہوچکی ہیں اور تمام پر کارروائی کی گئی جس میں مختلف مراحل کی کارروائی کے بعد 398 کیسز کو خارج کردیا اور اب 2 صدارتی ریفرنسز کے ساتھ 28 زیر سماعت ہیں۔خیال رہے کہ ایس جے سی نے دونوں ججز کو اظہارِ وجوہ کے نوٹسز کے بجائے ان کی رہائش گاہوں ہر ریفرنسز کی نقول بھجوائیں۔تفتیشی ضوابط کی دفعہ 8(3) کے مطابق جس جج پر الزام لگایا گیا ہو اسے بذات خود کونسل کے سامنے پیش ہونا ہوگا اور پھر کونسل انہیں ان کے خلاف موصول شدہ مواد اور دیگر معلومات فراہم کرے گی۔

حکومت کی طرف سے دائر کردہ ریفرنس میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کی غیر ملکی جائیدادوں کی ذرائع مطابقت نہیں رکھتے اسلیے سپریم جوڈیشل کونسل کو اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے آیا کہ یہ جائیدادیں منی لانڈرنگ کے ذریعے تو نہیں بنائی گئیں۔اسی طرح سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کریم خان آغا کے خلاف ریفرنس میں کہا گیا کہ انہوں نے اپنی غیر ملکی جائیداد تو ظاہر کی ہیں لیکن ان کی قیمت نہیں اس کے ساتھ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے 2005 سے 2014 تک اپنی ٹیکس کی ادائیگی کی معلومات جمع نہیں کروائیں۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی رپورٹ کے مطابق جسٹس کریم خان آغا کی بھی غیر ملکی جائیداد موجود ہے جس کی مالیت انہوں نے 2018 کے ٹیکس اعلامیے میں صفر ظاہر کی ہے اسی طرح انہوں نے برطانیہ میں ایک بینک اکائونٹ بھی ظاہر کیا لیکن اس میں بھی صفر رقم ظاہر کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…