منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سپریم جوڈیشل کونسل کوئی عدالت نہیں ،فیصلہ چیلنج کیا جا سکتا ہے،سپریم کورٹ نےشوکت عزیز صدیقی کو بڑا ریلیف فراہم کردیا

datetime 2  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی اپیل کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیاہے، فیصلے کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ آرٹیکل 184/3 کے تحت چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس(ر) شوکت عزیز صدیقی کی اپیل ابتدائی سماعت کے لئے منظور ، رجسٹرار آفس کو اپیل پر نمبر لگا کر سماعت کے لئے مقرر کرنے کا حکم دے دیاگیا ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے سپریم جوڈیشل کونسل کے 11 اکتوبر 2018 کے فیصلے کے مندرجات چیلنج کیے تھے، سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ آرٹیکل 184/3 کے تحت چیلنج کیا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کوئی عدالت نہیں ہے۔ رجسٹرار آفس کے اعتراضات تکنیکی نوعیت کے ہیں ،اپیل پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو مسترد کیا جاتا ہے۔ فیصلے کے مطابق جسٹس(ر) شوکت عزیز صدیقی کی اپیل کو ابتدائی سماعت کیلیے منظور کیا گیا ہے جبکہ رجسٹرار آفس کو درخواست پر نمبر لگا کر قانون کے مطابق مقرر کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ جسٹس(ر) شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی جس پر رجسٹرارآفس کی جانب سے اعتراضات اٹھائے گئے تھے ۔جسٹس(ر) شوکت عزیز صدیقی نے ان اعتراضات کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس پر جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے پچیس مارچ کو سماعت کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…