منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پاکستان اگر کرپشن کا خاتمہ چاہتا ہے تو ہمارا کونسا طریقہ کار اختیار کرے ؟ ملائیشین وزیر اعظم مہاتیر محمد نے وزیراعظم عمران خان کو بڑا مشورہ دیدیا

datetime 22  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد خان نے کہا ہے کہ بدعنوانی کے حوالے سے بہت تشویش ہے، کرپشن کے خاتمے سے متعلق پاکستان ہمارے تجربات سے استفادہ کرسکتاہے ،انتہا پسندی اور اسلامو فوبیا کے خاتمے کیلئے کوششیں کرنا ہوں گی،پاکستان ملائیشیا کے درمیان براہ راست سرمایہ کاری پر بات ہوئی ہے ، معیشت اور تجارت میں بہتری کے لیے مل کر کوششیں کریں گے

جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کرائسٹ چرچ حملے کو اسلامو فوبیا کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں جان بوجھ کر اسلامو فوبیا کی ترغیب دی گئی،مہاتیر محمد کا بدعنوانی کے خلاف مؤقف قابل تعریف ہے، بدعنوانی انسانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور کسی بھی ملک کو کمزور کردیتی ہے جمعہ کو ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ دیا گیا، ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کے وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر عمران خان نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔وزیراعظم ہاؤس میں پاک فوج کے چاق و چوبند دستوں نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور مہاتیر محمد نے پریڈ کا معائنہ بھی کیا جبکہ اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانوں کی دھنیں بھی بجائی گئیں۔وزیراعظم عمران خان نے مہاتیر محمد کا کابینہ ارکان سمیت دیگر سینئر حکام سے تعارف کرایا، ملائیشین وزیراعظم نے بھی اپنے پاکستانی ہم منصب کا اپنے وفد سے تعارف کرایا۔کابینہ اراکین سے تعارف کے بعد مہاتیر محمد کی جانب سے وزیر اعظم ہاؤس میں پودا بھی لگایا۔ ملائیشین وزیر وزیراعظم عمران خان اور ان کے ملائیشین ہم منصب ڈاکٹر مہاتیر محمد نے وزیراعظم ہاؤس میں مشترکہ نیوز کانفرنس کی۔اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسلامو فوبیا نے مسلم امہ کو نقصان پہنچایا، دہشت گردی نے مسلم ممالک کو بہت متاثر کیا، دنیا میں جان بوجھ کر اسلامو فوبیا کی ترغیب دی گئی۔عمران خان نے کہاکہ مغرب میں اسلاموفوبیا پھیلا اور کسی بھی ایک مسلمان کی جانب سے کیے جانے والے جرم کو ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں سے جوڑا جانے لگا۔انہوں نے کہاکہ نیوزی لینڈ واقعہ میں دہشت گرد نے بے دردی سے مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا اور ویڈیو بنائی اس پر اسے کوئی افسوس بھی نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ مہاتیر محمد کا بدعنوانی کے خلاف مؤقف قابل تعریف ہے، بدعنوانی انسانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور کسی بھی ملک کو کمزور کردیتی ہے۔انہوںنے کہا کہ میری جماعت نے 22 سال قبل کرپشن کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا، ہم سمجھتے ہیں کہ ملک غریب نہیں ہوتا کرپشن اسے غریب کردیتی ہے، کرپشن سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں اور اس میں انسانی وسائل پر خرچ ہونے والی رقم کرپشن کی نظر ہوجاتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کا دورہ پاکستان کیلئے اعزاز ہے، انہیں مسلمانوں کے قائد کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، مہاتیر محمد کے قائدانہ کردار کے متعرف ہیں، ملائشیا مسلم دنیا کیلئے ماڈل کے طور پر ابھرااور اس نے مسلم دنیا کے معاملات کو حل کرنے کیلئے کردار ادا کیا۔وزیر اعظم نے کہاکہ بدقسمتی سے بہت کم مسلم رہنما ایسے ہیں جنہوں نے ان معاملات پر موقف اپنایا جس نے مسلم دنیا کو متاثر کیا۔اس موقع پر معزز مہمان ڈاکٹر مہاتیر

محمد نے کہا کہ پاکستان آمد پر بے انتہا خوش ہوں اور یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت میری لیے اعزاز کی بات ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر بات چیت ہوئی، مسلم امہ کو درپیش مسائل پر وزیراعظم عمران خان سے بات ہوئی ، تجارت میں اضافے کے لیے اقدامات کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا، پاکستان ملائیشیا کے درمیان براہ راست سرمایہ کاری پر بھی بات ہوئی، معیشت اور تجارت میں

بہتری کے لیے مل کر کوششیں کریں گے،ہم دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قوانین معلوم ہونے چاہئیں تاکہ تاجروں کو سرمایہ کاری میں آسانی ہونی ہو۔مہاتیر محمد نے کہا کہ بدعنوانی کے حوالے سے بہت تشویش ہے، کرپشن کے خاتمے سے متعلق پاکستان ہمارے تجربات سے استفادہ کرسکتاہے جب کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کاوشیں کرنی ہوں گی، اسلامو فوبیا کے خاتمے کیلئے بھی کوششیں کرنا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت

سے ایسے معاملات پر بات چیت کی جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرسکتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم اپنی تجارت بڑھائیں گے تو معیشت میں بہتری آئیگی۔مسلم دنیا پر بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ آج کی دنیا میں کوئی ایک مسلم ملک کو ترقی یافتہ تصور نہیں کیا جاتا، تاہم ملائیشیا کا عزم ہے کہ 2020 سے 2025 تک ترقی یافتہ ملک بنیں، یہی نہیں دیگر مسلم ممالک کو بھی ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔سانحہ

کرائسٹ چرچ پر بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ اس واقعہ میں 9 پاکستانی اور 3 ملائیشین کو قتل کیا گیا اور یہ عمل اس نفرت کا ہے جسے پھیلایا گیا۔خیال رہے کہ 21 مارچ کو ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد اپنے 3 روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے جہاں نور خان ایئربیس پر عمران خان نے ان کا استقبال کیا تھا۔وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کرنے والے مہاتیر محمد 23 مارچ کو یوم پاکستان پریڈ کے مہمان خصوصی ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…