ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

طالبان سے مذاکرات کی مخالفت افغان مشیر قومی سلامتی کو مہنگی پڑ گئی ،محکمہ خارجہ طلبی ، امریکی ہم منصب کا ملاقات سے انکار

datetime 16  مارچ‬‮  2019 |

واشنگٹن(اے این این ) افغانستان میں قیامِ امن کے لیے امریکی حکومت کے طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر افغان حکومت اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ایسا اس وقت ہوا جب ایک انتہائی اہم افغان حکومتی عہدیدار اور افغان مشیر قومی سلامتی نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر امریکی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تو جواباً امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنی ناراضی کا اظہار کرنے کے لیے انہیں طلب کرلیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان رابرٹ پلاڈینو نے امریکی عہدیدار کی افغان حکومتی نمائندے سے ملاقات کے بعد بیان جاری کرتے ہوئے ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکی انڈر سیکریٹری برائے امورِ سیاسیات ڈیوڈ ہیل نے افغانستان کے مشیر قومی سلامتی حمد اللہ محب کو امریکا کی جانب سے مفاہمت کی کوششوں پر کیے گئے تبصرے پر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں طلب کیا۔ حمد اللہ محب نے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ افغان وائسرائے بننا چاہتے ہیں اس لیے افغان حکومت کو کمزور کررہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکا کے طالبان کے ساتھ مذاکرات سے گیارہ ستمبر کے حملے میں نشانہ بننے والے اور اپنی جانیں قربان کرنے والے امریکی فوجی اہلکاروں کی تذلیل ہوئی۔خیال رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا غیر معمولی واقعہ ہے جس میں امریکا کے دورے پر آئے کسی غیر ملکی عہدیدار کو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اس طرح طلب کیا۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ بیان سامنے آنے کے بعد امریکی مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے بھی اپنے افغان ہم منصب سے ملنے سے انکار کردیا۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں طلبی کے موقع پر افغان مشیر قومی سلامتی کو یہ بآور کروایا گیا کہ ان کے ریمارکس جنگ زدہ ملک میں قیامِ امن کی کوششوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

اس سے قبل امریکا اور طالبان وفد کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حال ہی میں اختتام پذیر ہوا تھا۔جس میں دونوں فریقین نے مزید اختلافات دور کرنے کے لیے ایک اور ملاقات پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔اس حوالے سے افغان مفاہمتی عمل میں امریکی حکومت کی نمائندگی کرنے والے زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں 4 نکات پر گفتگو مرکوز رہی جس میں انسدادِ دہشت گردی کی یقین دہانی، فوجوں کے انخلا، افغانستان کے اندر مذاکرات اور مکمل جنگ بندی شامل ہے۔اس سلسلے میں ابتدائی 2 نکات پر طالبان کی جانب سے رضامندی کا اظہار کیا گیا لیکن وہ افغان حکومت کے بات چیت سے انکاری ہیں اور مکمل جنگ بندی کے وعدے سے بھی گریزاں ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…