پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پنجاب میں’’تبدیلی‘‘ کیلئے نیا حکمرانی ماڈل تیار،ابتدائی خدوخال سامنے آگئے ، خیبر پختونخواتک وسعت دینے کا اعلان

datetime 5  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صوبہ پنجاب کے لئے مجوزہ نئے حکمرانی ماڈل کے تحت صوبے میں سات ایڈیشنل چیف سیکریٹریز تعینات ہوں گے۔ ہر کوئی ایک شعبے کے تحت آنے والے محکموں کا ذمہ دار ہوگا۔ وہ بہتر رابطوں اور کارکردگی کے لئے متعلقہ نوعیت کی ذمہ داریاں نبھائے گا۔ اس کے علاوہ متعلقہ وفاقی اور صوبائی وزراء پر مشتمل وزارتی رابطہ کمیٹیوں کی بھی سفارش کی گئی ہے تاکہ خزانہ، اطلاعات، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں وفاق اورصوبوں کے درمیان ہم آہنگی ہو۔

روزنامہ جنگ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا کہ پنجاب کے لئے ’’حسن حکمرانی‘‘ کے اس ماڈل کو خیبرپختونخواہ تک وسعت دے دی جائے گی۔ اس صوبے میں بھی تحریک انصاف ہی کی حکومت ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ خزانہ پر رابطہ کمیٹی وفاقی اور صوبائی وزرائے خزانہ پر مشتمل ہوگی۔ اسی طرح کی کمیٹیاں اطلاعات، زراعت اور سیاحت وغیرہ کے لئے بھی تشکیل دی جائیں گی جس کا مقصد بہتر پالیسی سازی اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجویز کے تحت پنجاب میں سات ایڈیشنل چیف سیکریٹریز ہوں گے۔ ہر ایڈیشنل چیف سیکریٹری مربوط پالیسی اور فیصلہ سازی کے لئے تین سے چار صوبائی محکموں کا ذمہ دار ہوگا۔ مثال کے طور پر ایک ایڈیشنل چیف سیکریٹری مویشی، آبپاشی، ماہی گیری اور زراعت کا ذمہ دار و نگراں ہوگا۔ اسی طرح ایک ایڈیشنل چیف سیکریٹری کھیل، نوجوانوں کے امور اور سیاحت کو دیکھے گا۔ فواد چوہدری کے مطابق مذکورہ تمام ایڈیشنل چیف سیکریٹریز چیف سیکریٹری کو جواب دہ اور ’’تبدیلی کے چیمپئن‘‘ ہوں گے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت گزشتہ اتوار کو پنجاب میں اجلاس ہوا جس میں حکمرانی کے نئے مجوزہ ماڈل پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم کے مشیر خزانہ سلمان شاہ نے پنجاب میں حکمرانی کا نیا ڈھانچہ تجویز کیا۔ یہ بھی ایک دلچسپ امر ہے کہ حکومتی ڈھانچے، حکمرانی اور سول سروس اصلاحات کے لئے دو خصوصی معاونین پہلے ہی سے موجود ہیں۔ دونوں نے ابھی تک کوئی اصلاح تجویز نہیں کی ہے تا ہم سلمان شاہ کا نیا حکمرانی ماڈل وزیراعظم کو بہتر لگا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…