پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

’’ جنگ کی کنجیاں اسلام آباد، کوئٹہ اور راولپنڈی میں ہیں‘‘ افغان صدر کی پاکستان کیخلاف ایک بار پھر ہرزہ سرائی،کیا کچھ کہہ دیا

datetime 31  جنوری‬‮  2019 |

کابل( آن لائن ) افغان صدر اشرف غنی نے ایک مرتبہ پھر امن مذاکرات پر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کی کنجیاں اسلام آباد، کوئٹہ اور راولپنڈی میں ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کو سرحد پار عسکری کارروائیوں کے لیے جنت قرار دے دیا۔

افغان صدر نے 17 سالہ افغان جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تناظر میں کہا کہ امن کی کنجی افغانستان میں ہے۔انہوں نے یہ بات زلمے خلیل زاد کی جانب سے طالبان کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر مشاورت کے لیے کابل کے دورے کے موقع پر کہی۔واضح رہے کہ 2017 میں پاکستان نے افغانستان کے ساتھ 2500 کلومیٹر طویل متنازع سرحد پربار لگانے کا کام شروع کیا تھا تا کہ عسکریت پسندوں کی دخل اندازی کو روکا جاسکے۔اشرف غنی نے افغان حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے سے انکار پر طالبان کے مذہبی جواز پر بھی سوال اٹھایا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر افغان حکومت غیر قانونی ہے تو طالبان کیسے جائز ہوئے، مکہ اور انڈونیشیا کے علما کا کہنا ہے کہ خود کش حملے اور شہریوں کا قتل جائز نہیں، تو پھر طالبان کیسی جائز ہوئے؟یاد رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے براہِ راست مذاکرات 2015 میں ختم ہوگئے تھے جس کے بعد سے طالبان دوبارہ اپنی اسلامی حکومت نافذ کرنے کے لیے غیر ملکی فوجوں کو ملک سے باہر نکالنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ان کا امریکا کے ساتھ قیامِ امن کے جاری مذاکرات رکھنے کا بھی ارادہ ہے جس کا اگلا دور اب 25 فروری کو ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…