پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کی کفایت شعاری مہم کھوہ کھاتے! سانحہ ساہیوال پر عثمان بزدار کی خصوصی آمد پر قومی خزانے کو کیسے بیدردی سے استعمال کیا گیا؟دعوؤں کی قلعی کھل گئی

datetime 28  جنوری‬‮  2019 |

ساہیوال(وائس آف ایشیا)پاکستان تحریک انصاف کی عام انتخابات میں نمایاں کامیابی کے بعد موجودہ حکومت نے کفایت شعاری کی پالیسی اپنانے اور قومی خزانے کے بے دریغ استعمال کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا تھا لیکن حکومتی نمائندوں نے حکومت کے ان تمام دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ حال ہی میں وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے سانحہ ساہیوال کے زخمی بچوں کی تیمارداری اور متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت کے لیے ساہیوال کا دورہ کیا تھا ۔

لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ دورہ قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا ٹیکہ لگا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شیڈول کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتال میں پریس بریفنگ اورزخمیوں کی عیادت کے لیے آدھا گھنٹہ مخصوص کررکھا تھا۔ضلع اورڈویژن کے اعلی افسران نے سادگی اورانصاف کی دعویدارجماعت پاکستان تحریک انصاف کے وزیراعلی عثمان بزدار کے لیے لاکھوں روپے مالیتی قیمتی بیڈ شیٹ اورغیر ملکی ڈنر سیٹ خرید لیے جنہیں سرکٹ ہاؤس اورسول ریسٹ ہاس پہنچایا گیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارمیڈیا کے تندوتیز سوالات سے بچنے اورمتاثرہ خاندان سے ملاقات کئے بغیر ہی لاہور کے لیے چلے گئے ، انہوں نے ایک کپ چائے بھی نہیں پی جبکہ سرکاری نوکری کے تقاضوں کو سمجھنے والے افسران نے وزیراعلیٰ کے استقبال اورآسائشوں کے لیے چند لمحوں میں ہی قومی خزانے سے لاکھوں روپے کی انتہائی مہنگی خریداری کرڈالی۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ساہیوال سے روانگی کے فوری بعد لاکھوں روپے سے خریدی گئی قیمتی بیڈشیٹیں اورمہنگی ترین غیرملکی کراکری اور دیگر پرتعیش اشیا مبینہ طور پر مختلف افسران کے گھروں میں منتقل کردی گئیں۔ یاد رہے کہ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا دورہ ساہیوال پہلے ہی تنقید کی زد میں ہے جس کی وجہ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا اسپتال میں زیر علاج زخمی عمیر کو پھولوں کا گلدستہ پیش کرنا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…