پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

چین ،سعودی عرب،قطر اور اب اسلامی ترقیاتی بینک سے بھی اربوں ڈالرز کا قرض،حکومت ہر طرف سے قرضے لینے میں مصروف،پاکستان کے دیوالیہ ہونے کاخدشہ، ماہرین نے خوفناک انتباہ کردیا

datetime 26  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)چین ،سعودی عرب،قطر اور اب اسلامی ترقیاتی بینک سے بھی اربوں ڈالرز کا قرض،حکومت ہر طرف سے قرضے لینے میں مصروف،پاکستان کے دیوالیہ ہونے کاخدشہ، ماہرین نے خوفناک انتباہ کردیا، تفصیلات کے مطابق ترجمان وزارت خزانہ نے کہاہے کہ پاکستان کو ادھار تیل ملنے میں ایک اور بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کو اسلامی ترقیاتی بینک سے قرض پر 4.5 ارب ڈالر کا تیل ملے گا اور یہ سہولت 3 سال کیلئے ہوگی ، آئی ڈی پی ہر سال ڈیڑھ ارب ڈالر کا تیل فراہم کریگا۔ترجمان نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 10 کروڑ ڈالر کا تیل فراہم ہو چکا ہے اور دوسرے مرحلے میں 27 کروڑ کا ادھار تیل ملے گا۔ترجمان کے مطابق اسلامی ترقیاتی بینک سے ایل این جی بھی ادھار لینے پر بات چیت جاری ہے۔ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق سعودی عرب سے ادھار تیل کے معاملات طے پاگئے ہیں، فروری کے وسط سے سعودی عرب سے ادھار تیل مل سکے گا۔ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق متحدہ عرب امارات سے بھی ادھار تیل پر بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔دوسری جانب معاشی ماہرین نے حکومت کی جانب سے چین، سعودی عرب، قطر اور اب اسلامی ترقیاتی بینک سے بھی اربوں ڈالرز کے قرض پر گہری تشویش کا اظہا ر کیا ہے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف تین سال کی مدت کے معاہدے کئے گئے ہیں جن میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق تین ممالک سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور قطر سے تقریباً بارہ بارہ ارب ڈالرز کے قرضو ں کے پیکج لئے گئے ہیں یعنی 36ارب ڈالرز قرض کے معاہدے ہورہے ہیں جبکہ چین سے بھی چار سے پانچ ارب ڈالر قرض لیاجائے گا اور اب اس کے بعد اسلامی ترقیاتی بینک سے بھی 4.5ارب ڈالرز کا تیل قرض پر لیے جانے کی نوید سنادی گئی ہے مجموعی طورپر یہ قرضے 48.5ارب ڈالرز کے نظر آرہے ہیں لیکن ان قرضوں کی واپسی کیسے ہوگی؟ کیا ان قرضوں کا بوجھ نئی آنے والی حکومت کو برداشت کرنا پڑے گا؟ یہ ابھی واضح نہیں، ماہرین نے بڑے پیمانے پر قرضے لینے کی حکومتی پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر موجودہ اور گزشتہ حکومتوں کے دور میں لئے جانے والے قرضوں کی واپسی کے لئے موثر اقدامات نہ کئے گئے تو پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…