ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

(ن) لیگ دور میں روزانہ کا قرض 7.7ارب ،پی ٹی آئی روزانہ 15ارب روپے قرض لینےلگی،200ارب ڈالر واپس لانے کی عمران خان کی باتیں سب مفروضہ نکلیں،اسدعمر نے کیسے وزیر اعظم کے دعوئوں کی نفی کردی،سب بے نقاب

datetime 26  جنوری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی)سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما محمد زبیرنے کہاکہ مسلم لیگ ن کے دورمیں روزانہ کا قرض 7.7 ارب روپے تھا جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے روزانہ 15 ارب روپے کا قرضہ لیا ہے،حکومت کا معاشی پیکیج بہت تاخیر سے آیا ہے، پہلے مارکیٹ کو تباہ ہونے دیا گیا اور جب معیشت کو خوب نقصان ہو گیا تو اب اپنا پروگرام پیش کردیا۔

خصوصی گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ معیشت کے حوالے سے پی ٹی آئی نے اپنے منشور پر عمل نہیں کیا، گزشتہ حکومتوں کو ذمہ دار قرار دینے کے بجائے انہیں اپنی کارکردگی دکھانی چاہئے تھی۔سابق گورنرنے کہاکہ اسد عمر کے معاشی پیکیج میں چھوٹے چھوٹے اقدامات لیے گئے ہیں، اس کی وجہ سے حکومتی آمدنی میں بہت کمی آئے گی جسے پورا کرنا مشکل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو جب حکومت ملی تو ان کی کوئی تیاری نہیں تھی حالانکہ ان کے دعوے بہت بڑے تھے۔محمدزبیر نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ معاشی سرگرمی میں اضافہ کیا جائے تاکہ شرح نمو بڑھائی جا سکے، اس کے برعکس پی ٹی آئی کا خیال تھا کہ شرح نمو میں اضافے سے زیادہ اہم خسارے پر قابو پانا ہے، یہ ان کی غلط سوچ تھی اور انہیں چھ ماہ بعد اس بات کی سمجھ آئی۔محمد زبیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگلے بجٹ میں صرف پانچ ماہ رہ گئے ہیں، اس سال پاکستان کی آمدنی میں تین سو ارب روپے کا خسارہ درپیش ہو گا۔ اس کے علاوہ کیے گئے اقدامات کی وجہ سے 1000 ارب روپے کے بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔اب خسارہ پورا کرنے کے لیے یا نئے ٹیکس لگائے جائیں گے یا قرضہ لیا جائے گا، دونوں صورتوں میں یہ پیسہ عوام کی جیب سے جائے گا۔محمد زبیر نے کہا کہ عمران خان نے جگہ جگہ یہ بات کی کہ وہ دو سو ارب ڈالر ملک میں واپس لائیں گے اس کے برعکس اب اسد عمر کا کہنا ہے کہ یہ بات مفروضوں پر مبنی تھی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…