پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ساہیوال واقعے کے متاثرہ خاندان کو اسلام آباد کون لایا؟ ایوان صدراور ترجمان سینٹ کی تردید سے نئی بحث چھڑ گئی

datetime 26  جنوری‬‮  2019 |

لاہور(سی پی پی ) سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونے والے خلیل کے بھائی جلیل کا کہنا ہے کہ ان کی فیملی کو صدر مملکت عارف علوی اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ملاقات کے لیے اسلام آباد بلا کر خوار کیا، اگر وہ نہیں ملنا چاہتے تھے تو بلایا کیوں تھا؟ دوسری جانب ایوان صدر اور سینیٹ ترجمان نے گذشتہ روز متاثرہ فیملی کے ساتھ ملاقات طے کیے جانے کی تردید کردی۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ مقتول خلیل کا خاندان صدر مملکت عارف علوی اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ملاقات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوا، تاہم بعدازاں صدر عارف علوی کی کراچی آمد اور چیئرمین سینیٹ کی بلوچستان روانگی کی رپورٹس بھی سامنے آئیں۔لاہور واپسی پر اپنے وکیل شہباز بخاری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کے سربراہ جلیل کا کہنا تھا کہ پولیس ان کی فیملی کو صدر عارف علوی اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ملوانے اسلام آباد لے کرگئی ۔انہوں نے مزید بتایا کہ ساری رات ہم سے بیان لکھواتے رہے، پھر سارا دن سڑکوں پر گھماتے رہے، پھر معلوم ہوا کہ صدر مملکت تو کراچی اور چیئرمین سینیٹ بلوچستان چلے گئے ہیں۔خلیل کا مزید کہنا تھا کہ ان کا تماشا بنایا جا رہا ہے، ہمیں فون کرکے ملاقات کے لیے بلوایا گیا تھا، اگر نہیں ملنا تھا تو ہمیں بلایا کیوں تھا، ہمارے ساتھ ہو کیا رہا ہے، کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔دوسری جانب وکیل شہباز بخاری کا کہنا تھا کہ ملزمان سیکیورٹی حصار میں ہیں جبکہ انہیں کوئی سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی۔وکیل کا مزید کہنا تھا کہ وہ 7 دن کا وقت دے رہے ہیں، جے آئی ٹی اپنی رپورٹ مکمل کرے، ورنہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

ایوان صدر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ صدر عارف علوی کی سانحہ ساہیوال کے لواحقین سے کوئی ملاقات طے نہیں تھی۔ترجمان ایوان صدر کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان کو صدر سے ملاقات کے لیے اسلام آباد کون لایا، پنجاب حکومت کو اس بات کی تحقیقات کی ہدایت کردی گئی۔دوسری جانب ترجمان سینٹ نے بھی ملاقات طے ہونے کی تردید کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے متاثرہ خاندان کو نہیں بلایا گیا اور نہ ہی اس خاندان کی جانب سے ملاقات کے لیے کوئی پیغام ملا۔ترجمان سینیٹ کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب سے اس معاملے سے متعلق وضاحت لی جائے گی ۔ سینیٹ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان کو کوئی تکلیف ہوئی ہے تو ان سے معذرت کی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…