پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خدشہ، پاکستانیوں کے اربوں ڈالر دائو پر لگ گئے،اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ٹویٹر پر ’اپیل ٹو چیف جسٹس ثاقب نثار ‘ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

  جمعہ‬‮ 11 جنوری‬‮ 2019  |  19:50
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)بحریہ ٹائون کراچی میںلاکھوں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سےکی گئی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خدشہ، اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ٹویٹر پر ’اپیل ٹو چیف جسٹس ثاقب نثار ‘ٹاپ ٹرینڈ بن گیا،تجزیہ نگاروں کے مطابق اس وقت بیرون ملک پاکستانیوں کی سب سے بڑی سرمایہ کاری جو پاکستان میں ہو چکی ہے وہ بحریہ ٹائون کراچی میں ہوئی ہے۔ سیکڑوں اوورسیز پاکستانی سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپ لوڈ کر کے اپنا قصور پوچھ رہے ہیں،بحریہ ہیں،بحریہ ٹائون میں سرمایہ کاری کرنیوالے پاکستانی پوچھ رہے ہیں کہ ہم کیا کریں ، ہمارا قصور بتایا جائے، ہم نے اتنی بڑی تعداد میں سرمایہ کاری کی ہےہماری زندگی بھر کی جمع پونجی ڈوب رہی ہے ، چیف جسٹس ثاقب نثار ہم پر رحم کریںاورجلد از جلد بحریہ ٹائون کراچی کیس کا فیصلہ کردیں۔ تفصیلات کے مطابق آج بحریہ ٹائون کراچی کے متاثرین اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ٹویٹر پر’ اپیل ٹو چیف جسٹس ثاقب نثار ‘ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔سیکڑوں اوورسیز پاکستانی اپنے ٹویٹس میں سپریم کورٹ ، چیف جسٹس ثاقب نثارسے اپیل کرتے رہے کہ ’خدا را!ان کی سرمایہ کاری کوڈوبنے سے بچایا جائےاور بحریہ ٹائون کراچی کیس کا جلد سے جلد فیصلہ کر دیں۔اوورسیز پاکستانیوں نے کہا بحریہ ٹاؤن کراچی 2013ء میں لانچ ہوا، تقریباً دو لاکھ پاکستانیوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اس پراجیکٹ میں انویسٹ کی۔ لاکھوں پاکستانیوں اوربیرون ملک مقیم اوورسیزنے بحریہ ٹاؤن کراچی میں پلاٹس بک کروائے اور پانچ سال تک باقاعدگی سے اپنی اقساط جمع کرواتے رہے۔ 2013ء میں جس وقت بکنگ شروع ہوئی تو بحریہ ٹاؤن کراچی کے پاس باقاعدہ این او سی تھا اور تمام اخبارات اور ٹی وی چینلز اس کے اشتہارات چلاتے رہے۔ کسی حکومتی ادارے نے اس وقت اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی عوام کو انتباہ کیا گیا۔اس وقت ان کے سامنے کسی بھی قسم کوئی رکاوٹ نہیں تھی ، کوئی عدالتی حکم نہیں تھا اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے کی جانب سے کوئی تنبیہہ سامنے آئی اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی سرکاری اعلان یا اطلاع تھی کہ یہاں پر معاملات شفاف نہیں اور زمینوں کا لین دین ستھرا نہیں ، کوئی بھی اس حوالے سے اعلان یا روک ٹوک حکومتی یا سرکاری سطح پر سامنے آئی اورہزاروں اوورسیز پاکستانیوں نے امریکہ ، برطانیہ، یورپ ، آسٹریلیا اور مڈل ایسٹ سے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اس پراجیکٹ میں انویسٹ کر دی، اوورسیز پاکستانیوں نے جی بھر کے بحریہ ٹائون میں سرمایہ کاری کی ،جب بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی زندگی بھرکی جمع پونجی کےاربوں ڈالر بحریہ ٹائون کراچی میں لگا چکےتواچانک حالات انتہائی دگرگوں ہوگئے اور بحریہ ٹائون کراچی کے معاملات عدالتی سماعت اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے پھنس گئے جس کی وجہ سےپراپرٹی کی قیمتیںبہت زیادہ گر گئیںاور سیل پرچیز رک گئی، اب بحریہ ٹائون کراچی کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور یہی وجہ ہے کہ جس نے اوورسیز پاکستانیوں میں ایک وسوسہ پیدا کر دیا ہے کہ ان کی سرمایہ کاری کا کیا بنے گا ؟سوشل میڈیا پر اوورسیز پاکستانیوں کا اپنے سیکڑوں ویڈیو پیغامات میں کہنا ہے کہ جب بھی پاکستان کو ضرورت پڑی، اوورسیز پاکستانیوں نے اس کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اب انہوں نے یہاں اپنی 20سے 25سال کی جمع پونجی باقاعدہ ٹیکس ادا کر کے بینکنگ چینل کے ذریعے بحریہ ٹائون میں سرمایہ کاری کیلئے بھیجی مگر اب وہاں سے ایسی اطلاعات آرہی ہیں جنہوں نے انہیں پریشان کر دیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور سپریم کورٹ آف پاکستان مہربانی کر کے معاملات حل کریں اور چیف جسٹس ثاقب نثار اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے اس کیس کا فیصلہ کر کے لاکھوں پاکستانیوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی ڈوبنے سے بچائیں۔

loading...