وزیراعظم کی بہن علیمہ خان کی دبئی کے بعد امریکہ میں بھی جائیداد نکل آئی، روزنامہ جنگ کے رپورٹر احمد نورانی نے بھانڈا پھوڑ دیا، سنسنی خیز انکشافات

  جمعہ‬‮ 11 جنوری‬‮ 2019  |  11:40

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادوں کے حوالے سے سپریم کورٹ نےبھی نوٹس لے رکھا ہے اور اس حوالے سے پاکستان کے کئی سیاستدانوں، بزنس مینوں اور ان کے اہل خانہ کے نام سامنے آچکے ہیں جنہوں نے اپنی ٹیکس گوشواروں میں بیرون ملک جائیدادوں کو ظاہر نہیں کیا ان میں ایک نام وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خانم کا بھی ہے جن کی دبئی میں جائیدادوں کا انکشاف ہوا تھا جس پر انہیں جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا تھا تاہم اب انکشاف ہوا ہے کہ وزیراعظم کی بہن علیمہ خانم کی امریکہ میں بھی جائیداد ہے اور


امریکی پراپرٹی ریکارڈ کے مطابق ریاست نیوجرسی میں تین فلیٹوں پر مشتمل چار منزلہ عمارت کی بھی وہ مالک ہیں۔معروف رپورٹر احمد نورانی کی روزنامہ جنگ میں شائع ہونیوالی تفصیلی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان جنہیں پاکستان میں ٹیکس حکام سے متحدہ عرب امارات میں موجود پرتعیش فلیٹ چھپانے پر مقدمہ کا سامنا ہے۔ ان کی امریکا میں بھی جائیداد ہے۔ امریکی پراپرٹی ریکارڈ کے مطابق ریاست نیوجرسی میں تین فلیٹوں پر مشتمل چار منزلہ عمارت کی بھی وہ مالک ہیں۔ انہیں فروخت کرنے میں ناکامی کے بعد مالی سال 2018 میں انہیں ظاہرکیا گیا۔ تاہم انہوں نے اپنی فروخت شدہ جائیدادیں ظاہر نہیں کیں۔ امارات میں اپنا فلیٹ ظاہر نہ کرنے پر انہیں سپریم کورٹ میں مقدمےکا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ لندن فلیٹ کی مالک آف شور کمپنی نیازی سروسز کی آفیشل دستاویزات میں علیمہ خان کو کمپنی کی واحد ڈائریکٹر دکھایا گیا ہے ۔ تاہم پاناما پیپرز افشا کے وقت جس کا سلسلہ 2010 سے جاری تھا نیو جرسی امریکا میں جائیداد کاروباری شراکت دار کے ساتھ مشترکہ ملکیت تھی۔ کاروباری شراکت دار نے پراپرٹی فروخت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ علیمہ خان امریکا میں اپنی جائیداد فروخت کرنے میں ناکام رہیں جو ظاہر ہوکر اب سامنےآئی ہے۔ یہ پراپرٹی دریائے ہڈسن سے 400میٹرز، مین ہٹن سے 4کلومیٹرز اور وال اسٹریٹ سے 3کلومیٹرز کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ عمارت 2004میں امریکی شہریوں پریبولا ،کیتھ اینڈ سوزن اور ایٹلز سے خریدی گئی جسے 30جون 2017کو ختم ہونے والے مالی سال تک ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ علیمہ خان نے اپریل 2016 میں پاناما پیپرز کے حوالے سے انکشافات کے بعد دی نیوز کی درجنوں ای میلز اور پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ جن میں ان کے امریکا، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں اثاثوں کے بارے میں استفسار کیا گیا ا ور جواب دینے کے بجائے انہوں نے اپنے اثاثے اور جائیدادیں فروخت کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ تاکہ بظاہر یہ دعویٰ کرسکیں کہ جب میڈیا عدالت میں سوال اٹھایا گیا تو ان کی کوئی ان سے پاکستان میںکوئی جائیداد نہیں تھی۔ ٹیکس حکام کو 30 جون 2017 تک آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے ٹیکس گوشوارے بتاتے ہیں کہ وہ سالانہ معمولی ٹیکس ادا کرتی رہی ہیں۔ وزیراعظم دفتر کا کہنا ہے کہ یہ نیا پاکستان ہے جس میں وزیراعظم کے اعزاء اور اقرباء اپنے کئے کے خود ذمہ دار ہیں اور حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سرکاری دستاویزات میں علیمہ خان کو نیازی سروسز لمیٹڈ کا ڈائریکٹر دکھایا گیا جبکہ عمران خان کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ امریکا میں علیمہ خان کی جائیداد کا پتہ 154، سکستھ اسٹریٹ، ہوبوکن سٹی، نیو جرسی (این جے 17030-) ہے۔ یہ جائیداد اپنے شراکت دار کے ساتھ علیمہ خان (علیمہ خانم) نے 5اگست 2004کو خریدی۔ دستاویزات میں اس کی قیمت 7لاکھ 58ہزار ڈالرز ظاہر کی گئی ہے جس کے مطابق مذکورہ جائیداد میں 75فیصد ملکیت علیمہ خان اور باقی 25فیصد کا حصہ دار ان کی شراکت دار ہے۔ اس کی موجودہ مارکیٹ قیمت 30لاکھ ڈالرز (تقریباً 45کروڑ روپے ) ہے ۔ بعدازاں اسے رہن رکھ کر علیمہ خان اور ان کے بیٹے شاہ ریز نے قرضے حاصل کئے۔ اس کے لئے شاہ ریز نے اپنی والدہ کے سابق کاروباری شراکت دار کا پاور آف اٹارنی بھی استعمال کیا۔ شاہ ریز علیمہ خان اور سہیل امیر خان کے بڑے بیٹے ہیں ۔ جنوری 2018کے ریکارڈ کے مطابق شاہ ریز نے پراپرٹی کے لئے رابطہ کار کا کردار ادا کیا۔ گوکہ علیمہ خان نے دنیا کے مختلف ممالک میں پرتعیش جائدادیں خریدیں لیکن پاکستان کے اندر اپنے ٹیکس گوشواروں میں کبھی ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے 2011تا 2016بالترتیب 107960، 188000، 140000، 158900، 186620 اور 130794 روپے ٹیکس کی مد میں ادا کئے۔ علیمہ خان نے شوکت خانم کینسر اسپتال اور نمل کے لئے عطیاتی مہم کے سلسلے میں گزشتہ 20 سال کے دوران مختلف ممالک کے دورے کئے ۔ انہوں نے ای میل، واٹس ایپ اور ایس ایم ایس کے ذریعے رابطوں کے لئے متواتر کوششوں کا کوئی جواب نہیں دیا، البتہ ان کے دو بیٹوں، وکیل اور چند قریبی ذرائع سے بات ہوئی۔ علیمہ خان کے چھوٹے بیٹے شیرشاہ خان نے استفسار پر کہا کہ پوچھے گئے سوالات کا صرف ان کی والدہ ہی جواب دے سکتی ہیں۔ تاہم بڑے بیٹے شاہ ریز خان نے بتایا کہ ہوبوکن میں املاک کی موجودہ ملکیت کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں ہے۔ وہ اس نمائدنے کا رابطہ نمبر والدہ کی سابق کاروباری شراکت کار کو دے دیں گے جو جائیداد کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بتا سکتی ہیں۔ جب شاہ ریز سے کہا گیا کہ وہ امریکا میں تو اپنی والدہ کے رابطہ کار تھے۔ ان کا موقف تھا کہ علیمہ خان نے دستاویزات کے لئے اس وقت نام دیا ہوگا لیکن اب ان کے پاس بتانے کے لئے کوئی تفصیل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کچھ عرصہ امریکا میں رہے لیکن ایک سال ہوا پاکستان واپس آگئے ہیں۔ علیمہ خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ان کے موکل کو 30لاکھ روپے جمع کرانے کے لئے کہا گیا جو جرمانہ نہیں بلکہ ریگولرائزیشن فیس ہے۔ استفسار پر وزیراعظم کے خصوصی معاون افتخار درانی نے کہا کہ وزیراعظم اپنے رشتہ داروں کے نجی امور کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ علیمہ خان کا نام آف شور کمپنی نیازی سروسز کے رجسٹرڈ ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی دیا گیا ہے۔ یہ کمپنی لندن میں عمران خان کے فلیٹ کی مالک ہے۔ دستاویزات میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ تاہم 2001میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جاری کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم اور سالانہ گوشواروں میں اس کو ظاہر کیا گیا۔

موضوعات:

loading...