پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ہمارے وزیراعظم کیوں صرف پیسوں کے آسرے پر وزیراعظم یا بادشاہ نہیں صرف ولی عہد کیلئے گاڑی ڈرائیو کرنے پر مجبور ہوگئے؟حکومت صرف ایک کام کرے سب ٹھیک ہوجائے گا ورنہ ورنہ یہ اپنے ہی بوجھ تلے کریش کر جائے گی،جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 7  جنوری‬‮  2019 |

پوری دنیا میں گھوڑوں کی ریس میں گھوڑوں کی رفتار دیکھی جاتی ہے لیکن جاپان میں ایک ایسی ریس بھی ہوتی ہے جس میں پہلے گھوڑوں پر ان کی برداشت سے زیادہ وزن ڈالا جاتا ہے اور پھریہ دیکھا جاتا ہے ان گھوڑوں میں سے کون کون اپنی منزل پر پہنچتا ہے‘ یہ ریس بانیئے کہلاتی ہے اور یہ جاپان کے علاقے ہوکائیڈو میں صدیوں سے جاری ہے‘ ۔۔اس ریس میں گھوڑوں کواپنی اوقات سے زیادہ وزن اٹھا کر میدان کے دو چکر لگانا پڑتے ہیں۔

مجھے نہ جانے کیوں اپنی حکومت ایک ایسا گھوڑا محسوس ہوتی ہے جس پر اس کی برداشت سے زیادہ وزن ڈال دیا گیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے یہ خود بھی اس بوجھ میں اضافہ کرتی جا رہی ہے مثلاً حکومت کو کس نے کہا تھا یہ نیب کا کام اپنے ذمے لے لے‘ یہ پہلے پاکستان مسلم لیگ ن اور پھر پیپلز پارٹی کی اکاؤنٹیبلٹی شروع کر دے‘ لوگوں کے نام ای اسی ایل پر چڑھا دے اور پھر سپریم کورٹ کے ہاتھوں بے عزتی کرا لے‘ اسے کس نے کہا تھا یہ کشکول نہ اٹھانے کا دعویٰ کرے اور پھر ہمارے وزیراعظم صرف پیسوں کے آسرے پر ولی عہد جی ہاں وزیراعظم یا بادشاہ نہیں صرف ولی عہد کیلئے گاڑی ڈرائیو کرنے پر مجبور ہو جائیں‘ کس نے کہا تھا آپ وزیراعظم ہاؤس کی مہنگی گاڑیاں بیچنے اور وزیراعظم ہاؤس کو تالا لگانے کا اعلان کریں اور پھر خود وزیراعظم ہاؤس کھلوا کر ولی عہد کو اس میں ٹھہرائیں اور مہنگی ترین گاڑی لے کر شہزادے کے استقبال کیلئے ائیرپورٹ پہنچ جائیں اور آپ کو کس نے کہا تھا آپ خودکشی کو آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر قرار دیں اور پھر آئی ایم ایف کو منانے کیلئے امریکی شرائط ماننے پر مجبور ہو جائیں‘ میرا خیال ہے حکومت نے غیر ضروری بوجھ اٹھا رکھا ہے اور یہ اس میں اضافے پر اضافہ کرتی چلی جا رہی ہے اور یہ وہ وجہ ہے جس کی بنا پر حکومت نے ساڑھے چار ماہ میں کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا‘ حکومت کو چاہیے یہ بوجھ کم کر کے صرف اور صرف اکانومی پر توجہ دے‘

ہر چیز ٹھیک ہو جائے گی ورنہ یہ اپنے ہی بوجھ تلے کریش کر جائے گی۔ ہم آج کے موضوعات کی طرف آتے ہیں ، سپریم کورٹ نے آج جعلی اکاؤنٹس کا ایشو نیب کے حوالے کر کے دو ماہ میں ازسر نو تفتیش کا حکم دے دیا‘ عدالت نے بلاول بھٹو اور سی ایم سندھ مراد علی شاہ کا نام ای اسی ایل سے بھی ہٹا دیا، کیا آج کا دن حکومت کی سیاسی ناکامی کا دن تھا‘ کیا پیپلز پارٹی گرم پانیوں سے باہر نکل آئی ہے اور کیا آج جے آئی ٹی کی کریڈیبلٹی ختم ہو گئی‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…