جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے ملک پر کیا اثرات پڑیں گے؟ آصف علی زرداری نے تحریک انصاف سے مفاہمت کا آغازکردیا،کیا حکومت شہبازشریف کا چیلنج قبول کرے گی؟جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 31  اکتوبر‬‮  2018 |

برطانیہ میں کنزرویٹو اور لیبر دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں‘ کنزرویٹو نے 1979 ء میں مارگریٹ تھیچر کی سربراہی میں حکومت بنائی اور یہ جماعت پھر انیس سوستانوے تک مسلسل اٹھارہ سال حکومت میں رہی، کنزرویٹو پارٹی کو انیس سو ستانوے میں اپنی شکست اور لیبر پارٹی کی جیت صاف نظر آ رہی تھی‘ آپ جمہوریت کا کمال دیکھئے اس وقت کنزرویٹو پارٹی کی قیادت نے محسوس کیا۔

ان کی مخالف جماعت لیبر پارٹی 18 سال بعد اقتدار میں آ رہی ہے‘ ان اٹھارہ برسوں میں ایڈمنسٹریشن اور پالیٹکس کے تمام اصول تبدیل ہو چکے ہیں‘ لیبر پارٹی کے لوگ ’’آؤٹ آف پریکٹس‘‘ ہیں‘ یہ جب اقتدار میں آئیں گے تو ان کی حماقتوں سے پورا سسٹم بیٹھ جائے گا چنانچہ ہمیں ان لوگوں کو ٹرینڈ کرنا چاہیے‘ جان میجر اس وقت کنزرویٹو پارٹی کے وزیراعظم تھے‘ انہوں نے نہ صرف خود نئے وزیراعظم ٹونی بلیئر کو ٹریننگ دی بلکہ پرانی حکومت کے وزراء بھی پورا مہینہ مستقبل کے وزراء کو بریفنگ دیتے رہے‘ یہ ہوتی ہے اصل جمہوریت‘ یہ ہوتی ہے وطن سے اصل محبت ‘یہ حقیقت ہے پاکستان تحریک انصاف کے وزراء اور وزیراعظم دونوں ناتجربہ کار ہیں‘ ان کی ناتجربہ کاری سے ملک اور پارٹی دونوں نقصان اٹھا رہی ہیں چنانچہ ملک کی دو پرانی جماعتیں اگر واقعی ملک سے مخلص ہیں تو پھر انہیں کنزرویٹو پارٹی کی طرح ان لوگوں کی مدد کرنی چاہیے‘ آج آصف علی زرداری نے حکومت کی طرف مفاہمت کا ہاتھ بڑھا کر اس کا آغاز کر دیا، میں کھلے دل کے اس مظاہرے پر آصف علی زرداری کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں‘ حکومت کو چاہیے یہ آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھام لے‘ کیا حکومت بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کرے گی‘ آج اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے عمران خان کو چیلنج کر دیا، کیا حکومت یہ چیلنج قبول کرے گی اور وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کیا کہا، یہ تینوں نقطے ہمارے آج کے پروگرام کا ایشو ہوں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…