اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

’’نماز پڑھ کر قتل جائز نہیں ہوتا‘‘دوران پوچھ گچھ تفتیشی افسرکا شہبازشریف سے مکالمہ،آگے سے سابق وزیراعلیٰ نے کیا جواب دیا؟

datetime 29  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور( آن لائن ) احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کیس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 7 نومبر تک توسیع کردی۔لاہور میں احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے شہبازشریف کے خلاف آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کیس کی سماعت کی۔ شہباز شریف کو انتہائی سخت سکیورٹی حصار میں احتساب عدالت لایا گیا۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب سمیت کئی پارٹی رہنما موجود تھے۔ سماعت کے دوران شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ ہمراہ پیش ہوئے۔ عدالت کے روبرو شہباز شریف نے اپنی صفائی میں کہا کہ مجھے نیب کی تحویل میں 25 دن ہوچکے ہیں،مجھے صاف پانی میں بلایا اور آشیانہ میں گرفتار کیا، مجھ سے آشیانہ ہاؤسنگ صاف پانی، لیپ ٹاپ سمیت دیگر پروجیکٹس میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ ایک تفتیشی نے کہا کہ نماز پڑھ کر قتل جائز نہیں ہوتا، میں نے جواب دیا کہ آپ مجھے زبردستی قصور وار ٹھہرا رہے ہیں۔شہباز شریف نے عدالت کے روبرو کہا کہ انہیں جھوٹے کیسز میں ملوث کیا گیا اور نیب حکام انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔ مجھے بلڈ کینسر ہے، جلاوطنی میں میرا امریکا میں آپریشن ہوا، میں نے ایک ہفتہ پہلے نیب سے درخواست کی ہے کہ میرا خون کا ٹیسٹ کروائیں لیکن میرا چیک اپ بھی نہیں کروایا جا رہا۔ لوگوں کو اپنی رائے بیان کرنے دیں اتنی بندش تو مارشل لاء میں بھی نہیں ہوتی، بھارتی ایجنٹ کو فیملی سے ملاقات کی اجازت ملی لیکن مجھے اس کی بھی اجازت نہیں۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میرے ساتھ ظلم ہورہا ہے یہ وقت انشاء اللہ گزر جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی عدالت سب سے بڑی ہے، میں نے صوبے کی خدمت کی ہے اگر یہ جرم ہے تو میں کرتا رہوں گا۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہبازشریف 2 بار وزیراعلیٰ پنجاب رہ چکے ہیں اور وہ غلط بات کررہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شہباز شریف کے ریمانڈ میں 7 نومبر تک توسیع کردی جب کہ 3 دن کا راہداری ریمانڈ بھی دے دیا ہے۔واضح رہے کہ نیب لاہور نے 5 اکتوبر کو شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا، تاہم اْن کی پیشی پر انہیں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ 6 اکتوبر کو عدالت نے شہباز شریف کو 10 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا جب کہ 16 اکتوبر کو ان کے ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کی تھی۔ شہباز شریف کا ریمانڈ 30 اکتوبر کو ختم ہونا تھا تاہم لاہور میں مقامی تعطیل کی وجہ سے انہیں ایک دن قبل ہی احتساب عدالت کے جج نجم الحسن کے روبرو پیش کیا گیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…