اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

’’کوئی ہے جو اس دہرے معیار کا جواب دے‘‘ ایک جانب تجاوزات اور قبضہ مافیا کیخلاف آپریشن لیکن دوسری جانب عمران خان کے رشتے دار اور برادری کے افراد میانوالی میں کتنے کنال قیمتی اراضی پرقابض ہیں ؟ہوشربا انکشاف

datetime 27  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(اے این این )وزیراعظم عمران خان کے اپنے ہی آبائی حلقہ میں ایک ہزار کنال سے زائد غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی انتہائی قیمتی اراضی کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں جو وزیراعظم کے قریبی عزیزوں ،رشتہ داروں اور برادری کے استعمال میں ہیں۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی ناجائز تجاوزات اور قبضہ گروپوں سے سرکاری اراضی کی واپسی

کیلئے پاکستان کی قومی تاریخ کا سخت ترین آپریشن شروع کیاتو اس حکومتی اقدام کی عام آدمی نے کھل کر داد دی اور پی ٹی آئی کی اس کارروائی کا خیر مقدم کیا،اس آپریشن میں بعض بااثر حکومتی اور اپوزیشن کے رہنماؤں سمیت متعدد بااثر شخصیات اور خاندان کو بھی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا،حکومت نے کسی دباؤ میں آئے بغیر آپریشن جاری رکھا ہوا ہے لیکن اب ایسی خبریں بھی سننے کو مل رہی ہیں جیسے بعض علاقوں میں حکومتی ارکان اسمبلی کو استثنیٰ حاصل ہو رہا ہے جس کی تازہ مثال سرگودھا میں پی ٹی آئی کے طاقت ور رہنماء انعام پراچہ کا غیر قانونی پٹرول پمپ ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ میانوالی شہر میں ایک ہزار کنال سے زائد محکمہ ریلوے اور پنجاب حکومت کی اراضی پر وزیراعظم عمران خان کے قریبی رشتہ داروں اور برادری والوں کا قبضہ ہے ،میانوالی شہر میں دو بڑے قبیلے بلو خیل اور وتہ خیل ہیں،پٹھانوں کے بلو خیل قبیلہ سے عمران خان کا تعلق ہے اور یہ قبیلہ میانوالی شہر میں آباد ہے ،بلو خیل روڈ پر عید گاہ اور قبرستان سے لیکر ہاکی گراؤنڈ تک بلو خیل قبیلہ کے خنکی خیل ،زادے خیل اور شیرمان خیل آباد ہیں جو کہ عمران خان کا خاندان ہے ،بتایا گیا ہے کہ جب میانوالی میں تھل کنیال تعمیر کی گئی تو حکومت نے محلہ زادے خیل میں سرکاری بھتہ خشت بنائے تھے اور جب یہاں ریلوے لائن بچھائی تھی جو کہ 1970تک موجود رہی اور یہ بھتہ خشت 1985تک دکھائی رہے۔

لیکن بعد میں سرکار کی زمین پر میانوالی کے طاقت ور خاندان روکھڑی اور خنکی خیل ،بلو خیل قبیلوں نے قبضہ کر لیا،محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق ہاکی سٹیڈیم تا یتیم خانہ ،قبرستان بلو خیل 538کنال محکمہ ریلوے اور باقی قبضہ کی گئی اراضی پنجاب حکومت کی ہے،با خبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انتہائی قیمتی اراضی کی واپسی کیلئے کیا حکمت علی اختیار کی جائے گی اس پر حکومت نے سر جوڑ لئے ہیں،گزشتہ روز بعض حساس اداروں نے محکمہ مال سے سرکاری اراضی کی تفصیلات لے کر رپورٹ ارسال کر دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…