اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 14 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ،یہ کون لوگ ہیں اور انہیں سزائے موت کیوں سنائی گئی ؟تفصیلات جاری

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

راولپنڈی (این این آئی) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 22 افراد کے قتل، سیکیورٹی فورسز پر حملوں ، تعلیمی اداروں اور دیگر املاک کوتباہ کرنیوالے 14 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے ، تمام دہشت گردوں کو خصوصی فوجی عدالتوں سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 14 خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔

مذکورہ دہشت گرد دہشت گردی کے سنگین جرائم میں ملوث تھے جن میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر حملے، بیگناہ شہریوں کا قتل، تعلیمی اداروں ، پاکستان ٹور ازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن، ہوٹل مالم جبہ سوات پر حملہ کر کے تباہ کرنے جیسے جرائم شامل ہیں۔ مجموعی طور پر مذکورہ دہشت گرد 22 افراد کے قتل میں ملوث ہیں جن میں تین شہری، 19 مسلح افواج / فرنٹیئر کانسٹیبلری / پولیس کے اہلکار وافسران شامل ہیں۔ دہشت گردوں نے 23 دیگر افراد کو زخمی بھی کیا ۔ بیان کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔ ان دہشت گردوں کیخلاف خصوصی فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ سزائے موت کے علاوہ آٹھ دہشت گردوں کو قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ ان دہشت گردوں میں رحمن علی ولد حسن غنی، رحمت علی ولد شیر ملک، سیف الرحمن ولد اکبر امان، فضل معبود ولد فضل ربی، ارشاد احمد ولد ممتاز، آفرین ولد نسیم، احمد حسین ولد قاری محمد ظریف، باچہ رحمن ولد معصوم جان، محمد مجید خان ولد صنوبر، محمد عاقل ولد نواب علی، سیف اللہ ولد محمد رفیق، محمد شیر علی خان ولد شیر افضل خان، محمد طارق ولد غلام بادشاہ اور علی رحمن ولد فضل واحد شامل ہیں۔ تمام دہشت گرد کالعدم تنظیموں کے رکن تھے ان کیخلاف خصوصی فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے جہاں انہوں نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا ۔ذرائع کے مطابق آرمی چیف کی طرف سے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ مذکورہ دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کئے جانے کے بعد انہیں کسی بھی وقت پھانسی دی جاسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…