جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 14 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ،یہ کون لوگ ہیں اور انہیں سزائے موت کیوں سنائی گئی ؟تفصیلات جاری

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

راولپنڈی (این این آئی) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 22 افراد کے قتل، سیکیورٹی فورسز پر حملوں ، تعلیمی اداروں اور دیگر املاک کوتباہ کرنیوالے 14 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے ، تمام دہشت گردوں کو خصوصی فوجی عدالتوں سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 14 خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔

مذکورہ دہشت گرد دہشت گردی کے سنگین جرائم میں ملوث تھے جن میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر حملے، بیگناہ شہریوں کا قتل، تعلیمی اداروں ، پاکستان ٹور ازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن، ہوٹل مالم جبہ سوات پر حملہ کر کے تباہ کرنے جیسے جرائم شامل ہیں۔ مجموعی طور پر مذکورہ دہشت گرد 22 افراد کے قتل میں ملوث ہیں جن میں تین شہری، 19 مسلح افواج / فرنٹیئر کانسٹیبلری / پولیس کے اہلکار وافسران شامل ہیں۔ دہشت گردوں نے 23 دیگر افراد کو زخمی بھی کیا ۔ بیان کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔ ان دہشت گردوں کیخلاف خصوصی فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ سزائے موت کے علاوہ آٹھ دہشت گردوں کو قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ ان دہشت گردوں میں رحمن علی ولد حسن غنی، رحمت علی ولد شیر ملک، سیف الرحمن ولد اکبر امان، فضل معبود ولد فضل ربی، ارشاد احمد ولد ممتاز، آفرین ولد نسیم، احمد حسین ولد قاری محمد ظریف، باچہ رحمن ولد معصوم جان، محمد مجید خان ولد صنوبر، محمد عاقل ولد نواب علی، سیف اللہ ولد محمد رفیق، محمد شیر علی خان ولد شیر افضل خان، محمد طارق ولد غلام بادشاہ اور علی رحمن ولد فضل واحد شامل ہیں۔ تمام دہشت گرد کالعدم تنظیموں کے رکن تھے ان کیخلاف خصوصی فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے جہاں انہوں نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا ۔ذرائع کے مطابق آرمی چیف کی طرف سے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ مذکورہ دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کئے جانے کے بعد انہیں کسی بھی وقت پھانسی دی جاسکتی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…