جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

پیٹرولیم ہاؤس اسلام آباد کی تعمیر میں مبینہ کروڑوں کی کرپشن سامنے آگئی، افسران اور ٹھیکیدار نے25کروڑ کا منصوبہ کتنے کروڑ میں مکمل کیا؟ واش روم کونسی ٹائلوں سے بنائے گئے؟ سنسنی خیز انکشافات

datetime 15  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن ) پیٹرولیم ہاؤس اسلام آباد کی لاگت 25کروڑ سے 86کروڑ روپے کرکے افسران نے تعمیر کے نام پر کروڑوں روپے لوٹ لئے، پیٹرولیم ہاؤس اسلام آباد کا پی سی ون256ملین کا تھا جبکہ تکمیل کے وقت ٹھیکیداروں کو 860ملین روپے ادا کئے گئے ہیں، پیٹرولیم ہاؤس منصوبہ میں مبینہ کروڑوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات مکمل ہوگئی ہیں اور رپورٹ متعلقہ کمپنی کے سپرد کردی گئی ہیں۔

اس کرپشن میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے ذیلی ادارہ پاک پی ڈبلیو کے اعلیٰ حکام کو ملوث قرار دیا جارہا ہے، ذرائع سے حاصل رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایگزیکٹو انجینئرسول نے ٹھیکیدار کو اشیاء کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا بہانہ بنا کر اضافی 8کروڑ روپے ادا کئے تھے جبکہ ٹیکنیکل افراد سے اجازت کئے بغیر ٹھیکیدار کو اضافی7کروڑ روپے ادا کرنے کا بھی ریکارڈ سامنے آیا ہے،86کروڑ روپے ٹھیکیداروں کو ادا کرتے وقت متعلقہ حکام نے ساڑھے تین کروڑ روپے ٹیکس کی کٹوتی بھی نہیں کی ہے جبکہ ایڈوانس کے نام پر ڈیڑھ کروڑ کی ادائیگی کو ایڈجسٹ نہیں کیا گیا ہے، متعلقہ حکام نے کنٹرکشن نگرانی کے نام پر ایک نجی کمپنی کے مالکان کو76لاکھ روپے کی ادائیگی کر رکھی ہے، پٹرولیم ہاؤس میں بیرونی ممالک سے44 لاکھ سے لاگت سے ٹائلیں درآمد کی تھیں یہ ٹائلیں واش روم میں لگائی گئی ہیں،پیٹرولیم ہاؤس کے ڈیزائن بنانے والے کو اضافی31لاکھ روپے ادا کئے گئے ہیں جبکہ ٹھیکیدار کو تعمیراتی کام کی انشورنس کرانے کی چھوٹ دے کر قومی خزانہ کو1کروڑ38لاکھ کا نقصان پہنچایا گیا ہے، دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹھیکیدار کو37کروڑ روپے کام کی بولی سے زائد ادا کئے گئے ہیں جبکہ ان ترقیاتی کام کا کوڈ بھی مقرر نہیں کیا گیا ہے، بھاری فیس کی ادائیگی کے باوجود 17کروڑ کی ادائیگی سے پیشگی ان کے مقررہ بھی حاصل نہیں کیا جا سکا، جبکہ ٹھیکیدار سے پرفارمنس گارنٹی کی 6کروڑ34لاکھ کی وصولی بھی نہیں کی گئی ہے۔

منصوبہ کی بروقت تکمیل نہ کرنے پر عائد 37ملین روپے کا جرمانہ بھی ٹھیکیدار سے وصول نہیں کیا گیا ہے جبکہ پیٹرولیم ہاؤس کی تعمیر کی اجازت سی ڈی اے سے لینا بھی گوارا نہیں کی ہے، انجینئرنگ کے شعبے میں بھی کروڑوں روپے کی مالی بدعنوانیاں سامنے آئی ہیں، دستاویزات کے مطابق تعمیراتی کام کی سرٹیفکیٹ حاصل کئے بغیر ٹھیکیدار کو غیر قانونی طریقے سے14کروڑ ادا کئے گئے یہ ٹھیکیدار عبدالستار اینڈ کمپنی تھی جس نے تمام متعلقہ افسران کی وفاداریاں خرید رکھی تھیں اور افسران اور ٹھیکیدار نے ملکر کروڑوں روپے لوٹ لئے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…