ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

چیف جسٹس کے سامنے وکلا کے کمرہ عدالت میں’’شیم شیم کے نعرے اگر یہ کام نہ کیا تو پھر۔۔ وکیلوں نے جسٹس ثاقب نثار کو دھمکانے کی کوشش کی تو انہوں نے آگے سے ایسا اعلان کر دیا کہ سب حیران رہ گئے،

datetime 13  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات معطل کرنے اور نامزد وکلا کی گرفتاریوں سے متعلق حکم امتناع کی استدعا مسترد کر دی اور وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کی ویڈیو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے

کہ ویڈیو عدالت میں دکھا کے ذمے داروں کا تعین کریں گے ،استعفی دے د وں گا لیکن بے انصافی نہیں کر وں گا ، میں اس ادارے کا باپ ہوں گالیاں بھی کھانی پڑی تو کھا ئو ں گا۔ ہفتہ کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے لاہور رجسٹری میں وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔اس موقع پر صدر اور سیکریٹری لاہور بار سمیت وکلا کی کثیر تعداد عدالت میں موجود تھی۔سماعت کے دوران لاہور بار کے صدر نے استدعا کی زیادتی وکلا کی نہیں بلکہ پولیس کی تھی، لہذ اس مقدمے میں سے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کی جائیں۔تاہم عدالت عظمی نے مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات معطل کرنے اور نامزد وکلا کی گرفتاریوں سے متعلق حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے میں استعفی دے دوں گا مگر بے انصافی نہیں کروں گا۔اس موقع پر وکلا کی جانب سے کمرہ عدالت کے اندر ‘شیم شیم’ کے نعرے لگائے گئے۔جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیم شیم کے نعرے لگانے والے آئندہ میری عدالت میں مت آئیں۔صدر لاہور بار نے کہا کہ شیم شیم کے نعرے پولیس کے لیے ہیں ۔تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں اس ادارے کا باپ ہوں گالیاں بھی کھانی پڑی تو کھا ئو ں گا۔سیکرٹری لاہور بار نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ اگر

آپ 7 اے ٹی اے معطل نہیں کرتے تو ہم سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیں گے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگ دھرنا دیں تو میں باہر آتا ہوں، دیکھتا ہوں۔وکلا کے احتجاج کے باعث چیف جسٹس کمرہ عدالت سے باہر آگئے، تاہم تھوڑی دیر بعد دوبارہ واپس آگئے۔سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کی ویڈیو آئندہ سماعت پر طلب کرتے

ہوئے ریمارکس دیئے کہ ویڈیو عدالت میں دکھا کے ذمے داروں کا تعین کریں گے۔واضح رہے کہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، جس میں پنجاب پولیس کے ایک سب انسپکٹر پر درجن بھر وکلا کی جانب سے تشدد کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد چیف جسٹس نے اس کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…