اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس کے سامنے وکلا کے کمرہ عدالت میں’’شیم شیم کے نعرے اگر یہ کام نہ کیا تو پھر۔۔ وکیلوں نے جسٹس ثاقب نثار کو دھمکانے کی کوشش کی تو انہوں نے آگے سے ایسا اعلان کر دیا کہ سب حیران رہ گئے،

datetime 13  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات معطل کرنے اور نامزد وکلا کی گرفتاریوں سے متعلق حکم امتناع کی استدعا مسترد کر دی اور وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کی ویڈیو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے

کہ ویڈیو عدالت میں دکھا کے ذمے داروں کا تعین کریں گے ،استعفی دے د وں گا لیکن بے انصافی نہیں کر وں گا ، میں اس ادارے کا باپ ہوں گالیاں بھی کھانی پڑی تو کھا ئو ں گا۔ ہفتہ کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے لاہور رجسٹری میں وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔اس موقع پر صدر اور سیکریٹری لاہور بار سمیت وکلا کی کثیر تعداد عدالت میں موجود تھی۔سماعت کے دوران لاہور بار کے صدر نے استدعا کی زیادتی وکلا کی نہیں بلکہ پولیس کی تھی، لہذ اس مقدمے میں سے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کی جائیں۔تاہم عدالت عظمی نے مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات معطل کرنے اور نامزد وکلا کی گرفتاریوں سے متعلق حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے میں استعفی دے دوں گا مگر بے انصافی نہیں کروں گا۔اس موقع پر وکلا کی جانب سے کمرہ عدالت کے اندر ‘شیم شیم’ کے نعرے لگائے گئے۔جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیم شیم کے نعرے لگانے والے آئندہ میری عدالت میں مت آئیں۔صدر لاہور بار نے کہا کہ شیم شیم کے نعرے پولیس کے لیے ہیں ۔تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں اس ادارے کا باپ ہوں گالیاں بھی کھانی پڑی تو کھا ئو ں گا۔سیکرٹری لاہور بار نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ اگر

آپ 7 اے ٹی اے معطل نہیں کرتے تو ہم سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیں گے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگ دھرنا دیں تو میں باہر آتا ہوں، دیکھتا ہوں۔وکلا کے احتجاج کے باعث چیف جسٹس کمرہ عدالت سے باہر آگئے، تاہم تھوڑی دیر بعد دوبارہ واپس آگئے۔سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کی ویڈیو آئندہ سماعت پر طلب کرتے

ہوئے ریمارکس دیئے کہ ویڈیو عدالت میں دکھا کے ذمے داروں کا تعین کریں گے۔واضح رہے کہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، جس میں پنجاب پولیس کے ایک سب انسپکٹر پر درجن بھر وکلا کی جانب سے تشدد کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد چیف جسٹس نے اس کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…