اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

قوم سے التجا کرتا ہوں منرل واٹر پینا چھوڑ دو! چیف جسٹس نے بوتلوں کے پانی کا متبادل پیش کردیا

datetime 11  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس نے عوام سے منرل واٹر نہ پینے کی استدعا کر دی۔نجی ٹی وی کے مطابق  سپریم کورٹ  میں منرل واٹر کمپنیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ میں عوام سے التجا کرتا ہوں کہ منرل واٹر پینا بند کر دیں۔ نلکے کا پانی ابال کر پئیں ، اللہ کے فضل سے کچھ نہیں ہو گا۔چیف جستس نے کہا کہ منرل واٹر کمپنیاں زمین سے پانی نکال کر بوتلیں بھرتی ہیں۔

منرل واٹر کمپنیاں چھوٹی بوتل 32 روپے میں بیچ رہی ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کمپنیوں کا سالانہ منافع ایک ارب سے زائد ہے۔ چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ لاہور میں بورنگ کریں تو پانی کتنے فٹ پر آتا ہے۔جس پر اعتزاز احسن نے جواب دیا کہ جی 400 فٹ پر پانی آتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے نیچے پتھر اور چٹانیں ہیں جن سے پانی نہیں نکلتا۔آپ چاہتے ہیں کہ لاہور اور شیخوپورہ کا پانی سکھا دیں۔ منرل واٹر کمپنیاں مفت میں پانی بھرتی ہیں۔ لوگ بالٹیاں لے کر بیٹھے رہتےہیں لیکن نلکوں میں پانی نہیں آتا۔کل بھی 5 جعلی کمپنیاں پکڑی گئی ہیں۔ کئی بڑی کمپنیوں کا پانی بھی معیار کے مطابق نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمپنیاں فی لٹر کتنا پیسہ دینے کو تیار ہیں؟دنیا میں پانی کی قیمت کیاہے اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں۔تمام کمپنیوں کو نوٹس جاری کر دیا تھا،آج جو حکم جاری ہوا وہ سب پر لاگو ہو گا۔ اب مفت میں پانی استعمال کرنے نہیں دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب منرل واٹر کمپنیوں کی ٹربائنز بند کر دیتے ہیں۔ پہلے نلکوں سے پانی بہہ رہا ہوتا تھا ، منرل واٹر کمپنیوں کی موٹروں کی وجہ سے نلکے خشک ہو گئے ہیں۔ منرل واٹر کمپنیاں اربوں گیلن استعمال کر کے اربوں روپے کما گئے اور بدلے میں عوام کو مہنگے پانی کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔کمپنیوں کی اکثریت غیر معیاری پانی بیچ رہی ہے، اربوں گیلن کا پانی لیا اور لاکھوں روپے بھی نہیں لیے گئے۔

پانی بیچنے والی کوئی کمپنی پیسے نہیں دے رہی۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ خدارا بوتلوں کا پانی نہ پئیں اور نلکے کا پانی ابال کر پئیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ منرل واٹر کمپنیاں پانی بطور خام مال استعمال کر رہی ہیں۔ کمپنیاں جائز منافع ضرور کمائیں لیکن پانی کی قیمت بھی ادا کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…