جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے عوام کو خوش کردیا 100 روپے کے کارڈ پرکتنا بیلنس ملے گا؟ شاندار فیصلہ

datetime 11  جون‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے موبائل فون کے بیلنس ری چارج کارڈ پر پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور موبائل کمپنیز کی جانب سے وصول کیے جانے والے اضافی ٹیکسز کو معطل کرتے ہوئے ان احکامات پر عمل کرنے کے لیے 2دن کی مہلت دے دی جبکہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ یہاں لوگوں سے لوٹ مارکی جارہی ہے جبکہ ایک بندہ ٹیکس نیٹ ورک میں نہیں آتا تواس سے کیسے ٹیکس لیتے ہیں؟

گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں موبائل فون پر اضافی ٹیکسز کے از خود نوٹس کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہوئی ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ موبائل کارڈز پر موبائل کمپنیز اور ایف بی آر ٹیکس وصول کرتی ہیں، 100روپے کا کارڈ لوڈ کرنے پر 64.38 پیسے وصول ہوتے ہیں یہ غیر قانونی ہے،یہاں لوگوں سے لوٹ مارکی جارہی ہے، ایک بندہ ٹیکس نیٹ ورک میں نہیں آتا تواس سے کیسے ٹیکس لیتے ہیں؟۔فاضل عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ریڑھی بان سے کیسے ٹیکس لیاجاسکتا ہے؟۔عدالت نے موبائل فون کے بیلنس ری چارج کارڈ پر وصول کیے جانے والے اضافی ٹیکسز معطل کرنے کا حکم جاری کیا اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے 2دن کی مہلت دے دی۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ جس کا موبائل فون کا استعمال مقررہ حدسے زیادہ ہے اس سے ٹیکس لیں اور موبائل فون کارڈز پر ٹیکس وصولی کے لیے جامع پالیسی بنائی جائے۔جیسے ہی یہ خبر بریک ہوئی سوشل میڈیا پر صارفین نے چیف جسٹس کے اس احسن اقدام کو سراہا  اور کہا کہ سپریم کورٹ نے دیر سے ہی سہی مگر درست فیصلہ کیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…