جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

بلاول اور آصفہ بھٹو عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے تیار ،دونوں نے کن حلقوں سے کاغذات نامزدگی حاصل کر لئے؟

datetime 4  جون‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)کاغذات نامزدگی کی وصولی کا عمل شروع ہوگیا ہے،پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری اوران کی چھوٹی ہمشیرہ آصفہ بھٹو عام انتخابات میں حصہ لیں گے، دونوں نے کاغذات نامزدگی حاصل کر لئے ہیں۔ بلاول بھٹو این اے 200 لاڑکانہ اور این اے 246 لیاری سے الیکشن لڑیں گے جبکہ آصفہ بھٹو نے پی ایس 10رتو ڈیرو سے کاغذات نامزدگی حاصل کیئے ہیں، بلاول کی طرف سے ان کے وکیل نے کاغذات حاصل کیے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں بھی کاغذات نامزدگی حاصل کرنے کا سلسلہ جاری ہے،چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری این اے 200 لاڑکانہ اور این اے 246 لیاری سے الیکشن لڑیں گے جبکہ آصفہ بھٹو نے پی ایس 10رتو ڈیرو سے کاغذات نامزدگی حاصل کیئے ہیں۔بلاول بھٹوزرداری کے فارم ان کے وکیل اور سابق چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک نے ریٹرننگ آفیسر ڈسٹرک ساؤتھ سے حاصل کیئے ۔دوسری جانب آئندہ عام انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی حاصل اور جمع کرانے کا عمل جاری ہے۔ کاغذات نامزدگی 4 سے 8 جون تک حاصل اورجمع کرائے جائیں گے، کاغذات نامزدگی اردو اورانگریزی دونوں زبانوں میں دستیاب ہیں۔قومی اسمبلی کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی سیکورٹی فیس 30 ہزار روپے رکھی گئی ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کیلئیکاغذات نامزدگی جمع کرانے کی سیکیورٹی فیس 20 ہزار روپے رکھی گئی ہے، ایک چوتھائی سے کم ووٹ حاصل کرنے کی صورت میں فیس ضبط کر لی جائے گی۔کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسران کے دفاتر سے صبح 8 بجے سے دن 4 بجے تک حاصل کیے جا سکیں گے۔الیکشن 2018 کے کاغذات نامزدگی میں ہر امیدوار کو آرٹیکل 62 اور 63 کا بیان حلفی جمع کرانا ہو گا۔بیان حلفی میں غیر ملکی پاسپورٹ،

دہری شہریت، حکومتی یوٹیلیٹی بلز نا دہندہ، اور زیر سماعت فوجداری مقدمات کی تفصیل دینی ہو گی۔الیکشن کمیشن کے مطابق 2013 کے الیکشن میں نامزدگی فارم میں غیر ملکی پاسپورٹ، دہری شہریت، حکومتی یوٹیلیٹی بلز نا دہندہ، اور زیر سماعت فوجداری مقدمات کی تفصیلات کیلئے علیحدہ خانے رکھے گئے تھے لیکن اب بیان حلفی ہی میں یہ ساری تفصیلات دیناہوں گی۔کاغذات نامزدگی میں امیدواروں سے اثاثوں کی تفصیلات مانگی گئی ہیں،

امیدواروں کو اہل خانہ، زیر کفالت افراد، کمپنیز اور پروفیشن کی تفصیل بھی دینی ہو گی، رواں سال منقولہ جائیداد کی تفصیل بھی اثاثوں کی تفصیلات میں شامل ہے۔پہلی بارامیدوار کو ای میل ایڈریس اور کونٹیکٹ نمبر بھی دینا ہو گا، اس بار این ٹی این نمبر نہیں مانگا گیا، کیونکہ اب شناختی کارڈ نمبر ہی این ٹی این نمبر ہے۔3 سالہ انکم ٹیکس، زرعی ٹیکس، غیر ملکی دوروں کی تفصیلات بھی طلب نہیں کی گئیں،تعلیمی قابلیت اور جس جماعت سے ٹکٹ لیا گیا اس کی طرف سے رقم وصول کرنے کی تفصیلات بھی نامزدگی فارم کا حصہ نہیں ہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…