جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

100روپے کے موبائل کارڈ پر 42روپے ٹیکس کٹوتی چیف جسٹس نے پہلی ہی سماعت پر دھماکہ خیز حکم سنا دیا،پاکستانیو ں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی،جسٹس ثاقب نثار کو ڈھیروں دعائیں

datetime 8  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) موبائل کمپنیوں کے 100 روپے کے کارڈ پر ٹیکس کٹوتی کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دنیا کے مختلف ممالک میں ٹیکس کا تقابلی جائزہ پیش کرنے کا حکم د یدیا اور کہا ہے کہ وہ موبائل کارڈ پر ٹیکس کے معاملے پر ایک ہفتے میں جواب جمع کرائیں۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے موبائل کارڈ پر ٹیکس کٹوتی کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے

عدالت کو بتایا کہ 100 روپے کے موبائل کارڈ پر 19 اعشاریہ 5 فیصد سیلز ٹیکس، 12 اعشاریہ 7 فیصد ود ہولڈنگ ڈیوٹی اور 10 روپے سروس چارجز ہیں۔چیف جسٹس نے کہا ود ہولڈنگ ٹیکس کی وضاحت کریں یہ کیسے وصول کیا جارہا ہے، جو شخص ٹیکس دینے کا اہل نہیں اس پر ود ہولڈنگ ٹیکس کیوں لگایا جارہا ہے۔ وزیر خزانہ کو بلائیں ان سے پوچھیں کہ 14 کروڑ صارفین سے روزانہ یہ ٹیکس کس کھاتے میں لیا جاتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اور ڈپلومیٹس سے ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں لیا جاتا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ موبائل کارڈ پر سیلز ٹیکس کیسے لگادیا جس پر ایف بی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس صوبے وصول کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا صوبے کس قانون کے تحت سیلز ٹیکس لگار ہے ہیں؟ کیا یہ ڈبل ٹیکس لگانا استحصال نہیں ہے، جو ٹیکس ادا نہیں کرتا وہ ٹیکس کے پیسے کیسے واپس لے گا؟۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سروس چارجز کس بات کے لیے جا رہے ہیں،42 فیصد پیسے ٹیکس کی مد میں کاٹ لیے جاتے ہیں، یہ غیر قانونی طریقے سے عوام سے پیسے نکلوانے کا طریقہ ہے ۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سروس چارجز کا جواب کمپنیاں دے سکتی ہیں۔عدالت نے دنیا کے مختلف ممالک میں ٹیکس کا تقابلی جائزہ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایف بی آر اور صوبوں کو حکم دیا کہ وہ موبائل کارڈ پر ٹیکس کے معاملے پر ایک ہفتے میں جواب جمع کرائیں۔ سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…