منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

100روپے کے موبائل کارڈ پر 42روپے ٹیکس کٹوتی چیف جسٹس نے پہلی ہی سماعت پر دھماکہ خیز حکم سنا دیا،پاکستانیو ں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی،جسٹس ثاقب نثار کو ڈھیروں دعائیں

datetime 8  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) موبائل کمپنیوں کے 100 روپے کے کارڈ پر ٹیکس کٹوتی کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دنیا کے مختلف ممالک میں ٹیکس کا تقابلی جائزہ پیش کرنے کا حکم د یدیا اور کہا ہے کہ وہ موبائل کارڈ پر ٹیکس کے معاملے پر ایک ہفتے میں جواب جمع کرائیں۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے موبائل کارڈ پر ٹیکس کٹوتی کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے

عدالت کو بتایا کہ 100 روپے کے موبائل کارڈ پر 19 اعشاریہ 5 فیصد سیلز ٹیکس، 12 اعشاریہ 7 فیصد ود ہولڈنگ ڈیوٹی اور 10 روپے سروس چارجز ہیں۔چیف جسٹس نے کہا ود ہولڈنگ ٹیکس کی وضاحت کریں یہ کیسے وصول کیا جارہا ہے، جو شخص ٹیکس دینے کا اہل نہیں اس پر ود ہولڈنگ ٹیکس کیوں لگایا جارہا ہے۔ وزیر خزانہ کو بلائیں ان سے پوچھیں کہ 14 کروڑ صارفین سے روزانہ یہ ٹیکس کس کھاتے میں لیا جاتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اور ڈپلومیٹس سے ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں لیا جاتا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ موبائل کارڈ پر سیلز ٹیکس کیسے لگادیا جس پر ایف بی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس صوبے وصول کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا صوبے کس قانون کے تحت سیلز ٹیکس لگار ہے ہیں؟ کیا یہ ڈبل ٹیکس لگانا استحصال نہیں ہے، جو ٹیکس ادا نہیں کرتا وہ ٹیکس کے پیسے کیسے واپس لے گا؟۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سروس چارجز کس بات کے لیے جا رہے ہیں،42 فیصد پیسے ٹیکس کی مد میں کاٹ لیے جاتے ہیں، یہ غیر قانونی طریقے سے عوام سے پیسے نکلوانے کا طریقہ ہے ۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سروس چارجز کا جواب کمپنیاں دے سکتی ہیں۔عدالت نے دنیا کے مختلف ممالک میں ٹیکس کا تقابلی جائزہ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایف بی آر اور صوبوں کو حکم دیا کہ وہ موبائل کارڈ پر ٹیکس کے معاملے پر ایک ہفتے میں جواب جمع کرائیں۔ سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…