جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر وائرل جنازے کی تصویر پر ازخودنوٹس کیس:دوران سماعت ایسا انکشاف کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا

datetime 26  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) سوشل میڈیا پر وائرل جنازے کی تصویر پر ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ایم این اے را محمد اجمل ، ایم پی اے رضا گیلانی اور چیئرمین بلدیہ ذوالفقار شاہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جمعرات کو طلب کر لیا۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سوشل میڈیا پر وائرل جنازے کی تصویر پر ازخود نوٹس کی سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ

جس جگہ کی تصویرتھی وہاں کے کونسلرعدالت میں ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے دیکھاہے کہ علاقے میں کیاہورہا ہے؟،اس مسئلے کو حل کرنا آپ لوگوں کا کام ہے ،آپ لوگوں نے اس ملک کو قیادت دینی ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مقامی حکومت نے لوگوں کی فلاح کیلئے کام کرناہے، گندگی کی وجہ سے جنازہ لے جانے والوں کے کپڑے ناپاک ہوگئے۔اس پر کونسلر حجرہ شاہ مقیم نے عدالت کو بتایا کہ ہم خودبھی جنازے میں شریک تھے،نایاب کاشف نے کہاکہ لینڈمافیانے جنازہ گاہ اورقبرستان پرقبضہ کررکھاہے،حجرہ شاہ مقیم کے پارک کوپلاٹس بناکرفروخت کیاجارہاہے،کونسلر نے عدالت کو بتایا کہ میونسپل کمیٹی کے چیئرمین نے جنازہ گاہ پرقبضہ کررکھاہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ حجرہ شاہ مقیم میں ایم این اے اورایم پی اے کون ہیں؟اور ان کا تعلق کس جماعت سے ہے؟کونسلر نے عدالت کو بتایا کہ را محمد اجمل ایم این اے اور رضا گیلانی ایم پی اے ہیں،دونوں ارکان اسمبلی کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے ۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ دونوں ارکان اسمبلی کو بلا لیتے ہیں،سپریم کورٹ نے کونسلرز کو تحریری شکایت جمع کرانے کی ہدایت کر دی اور ایم این اے را محمد اجمل ، ایم پی اے رضا گیلانی اور چیئرمین بلدیہ ذوالفقار شاہ کوذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…