اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

اسے شرم نہیں آتی ، دل کی تکلیف کا جھوٹ بول کر ہسپتال میں محفلیں جماتا رہا، اب بھی جھوٹ بول رہا ہے، توہین عدالت کیس کے دوران چیف جسٹس نے نہال ہاشمی کو دھو کر رکھ دیا،

datetime 26  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ میں نہال ہاشمی توہین عدالت کیس کی سماعت ، نہال ہاشمی نے سپریم کورٹ میں معافی کی اپیل کر دی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں آج نہال ہاشمی کی توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، ن لیگ کے رہنما نے سپریم کورٹ سے معافی کی اپیل کر دی ہے۔ نہال ہاشمی کی جانب سے معافی کی اپیل پر چیف جسٹس نےنہال ہاشمی سے سوال کرتے ہوئے

پوچھا کہ آپ معافی کی اپیل کیسے کر سکتے ہیں؟نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ اللہ جانتا ہے، نہال ہاشمی کے جواب پر چیف جسٹس نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ چپ کر جائیں اللہ کو بیچ میں نہ لائیں،جو باتیں آپ نے کیں کیااپنی ذات کیلئے عدالت میں دہرا سکتے ہیں؟نہال ہاشمی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں میں نہیں دہرا سکتا، میں وکیل ہوں ایسا نہیں کہہ سکتا، نہال ہاشمی کی بولنے کی کوشش پر چیف جسٹس نے انہیں اگر سے آگے نہ بولنے دیا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر مگر کی بات نہیں ، آپ نے سپریم کورٹ کی توہین کی ہے، یہاں کھڑے ہو کر اپنے الفاظ دہرائیں، چیف جسٹس کے اس حکم پر نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہانہیں میں نہیں دہرا سکتا۔ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم دیکھ لیتے ہیں، چیف جسٹس نے اس موقع پرکہا کہ اتنے بزرگ بیٹھے ہیں سب کو دکھا دیتے ہیں، چیف جسٹس کے حکم پر نہال ہاشمی کی جیل سے رہائی کے موقع پر کی گئی تقریر عدالت میں چلائی گئی۔تقریر چلائے جانے کے بعد چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو شرم سے ڈوب جاتا، چیف جسٹس نےاس موقع پر کہا کہ رشید اے رضوی کو ثالث مقرر کر لیتے ہیں، رشید اے رضوی آپ بتائیں کہ انہوں نے عدالت کے بارے میں کیا کہاکیا ، کیانہال ہاشمی خود کیلئے وہی نازیباالفاظ استعمال کر سکتے ہیں، آج وکلا کا انصاف بھی دیکھ لیتے ہیں،کل میرا بیٹا پکڑا گیا تو بھی وکیلوں کے ذریعے دفاع کروں گا،

وکلا بتائیں کہ باہر کھڑا ہو کر گالیاں دینے والوں کو کیا سزا ہونی چاہئے، عدالت کو بتائیں کہ نازیبا الفاظ کس کیلئے کہے، اس کو شرم نہیں آتی کہ دل کی تکلیف کا جھوٹ بول کر ہسپتال میں محفلیں جماتا رہا۔ بتائو کون پولیٹیکل کیسز سن رہا تھا؟رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ ہم نے پی سی او ججز کے بارے میں ایسی بات نہیں کی قانون کی حکمرانی کیلئے کھڑے رہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب بھی

اس شخص کو پشیمانی نہیں، اب بھی جھوٹ بول رہا ہے۔ عدالت میں موجود سندھ بار کے ممبر کا کہنا تھا کہ معافی کی گنجائش نہیں ۔ چیف جسٹس نے نہال ہاشمی سے استفسار کیا کہ کیا ندامت کا اظہار کرتے ہو کہ آئندہ ایسا نہیں کرو گے، چیف جسٹس نے نہال ہاشمی کی توہین عدالت کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…