جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

حکومت سورہی ہے، پیسہ باہر لے جانے سے روکنے کیلئے کچھ توکرتی، چیف جسٹس

datetime 14  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت سورہی ہے، پیسہ باہر لے جانے سے روکنے کے لیے کچھ تو کرتی ایک آرڈیننس ہی لے آتی۔سپریم کورٹ میں بیرون ملک پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ پاناما اور پیرا ڈائزلیکس میں شامل پاکستانیوں کا ابھی تک کچھ پتا نہیں، حکومت پیسہ باہرلے جانے سے

روکنے کے لیے کچھ توکرتی،آرڈیننس ہی لے آتے۔ممبر ریونیو ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو اثاثے ظاہرکرنے کے لیے ایمنسٹی اسکیم مارچ کے اختتام تک متعارف کرائی جائے گی جس کا فارمیٹ تیارہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قانون میں خامیوں کے باعث کسی نے اثاثے ظاہر کرنے کی زحمت ہی نہیں کی، ہمیں لیکس سے پتا لگتا ہے کہ لوگوں کی کتنی پراپرٹیز باہر ہیں، اگر اس میں قانونی اقدامات اٹھانے ہیں توکام شروع ہونا چاہیے۔سیکریٹری فنانس نے عدالت میں کہا کہ کیس کے دو حصے ہیں، ایک باہر سے پیسہ لانے کا، ایک باہر جانے سے روکنے کا۔ اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کوکچھ نہ کچھ قدم اٹھانا چاہیے تھا تاکہ پیسہ باہرجانے کا سلسلہ بند ہو، پاکستان کی تباہی ایسے ہوتی ہے کہ لوگ پیسہ اڑا کرباہرلے گئے۔جسٹس ثاقب نثار نے چیئرمین ایف بی آر سے استفسار کیا کہ آپ ان لوگوں کونہیں پکڑسکے جن کے نام پاناما اوردیگر لیکس میں آئے۔چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا کہ ہم نے اشتہارات دیئے لیکن کوئی انفارمیشن نہیں آئی۔معزز چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ ہم پاکستان سے باہر پیسہ لے جانا بند کرسکتے ہیں یا نہیں، ہم نے دو باتوں پر فوکس کیا ہے،کمیٹی نے تو کچھ نہیں کرنا، کمیٹی کی پیش کردہ رپورٹ میں کچھ خاص نہیں ہے،

ہم اس معاملے کو روزانہ کی بنیاد پر سنیں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ پاکستانی شہریوں کی باہرپراپرٹی کیا ہیں اور اکاؤنٹ میں کیا رکھا ہوا ہے؟ چیف سیکریٹری فنانس نے کہا کہ تین ماہ سے حکومت کے سامنے چیزیں لائے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کیا کررہی ہے؟ وہ سورہی ہے، یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کن کن لوگوں کے ملک سے باہرکرنسی اکاؤنٹس ہیں، بچوں کی پڑھائی کے لیے رقوم بھیجنا الگ چیز ہے۔عدالت نے معاشی ایکسپرٹ محمود مانڈوی والا اور شبرزیدی کومعاون مقرر کرتے ہوئے سماعت 20 مارچ تک ملتوی کردی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ 20 مارچ سے روزانہ کی بنیاد پر مقدمہ کی سماعت کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…