پاکستان میں جس وقت شریف فیملی کو کرپشن کے خوفناک الزامات کا سامنا ہے‘ میاں نواز شریف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارٹی کی قیادت سے محروم ہو چکے ہیں‘ میاں شہباز شریف متبادل قائد کی حیثیت سے آگے آ چکے ہیں اور احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد خواجہ سعد رفیق‘ حمزہ شہباز اور میاں شہباز شریف بھی گرم پانیوں کا شکار دکھائی دے رہے ہیں‘ عین اس وقت جنوبی افریقہ میں ایک دلچسپ مثال سامنے آئی‘ یہ مثال صدر جیک زوما کا استعفیٰ ہے‘
صدر جیک زوما کی کہانی میاں نواز شریف سے ملتی جلتی ہے‘ جیک زوما 1999ء سے لائم لائیٹ میں ہیں‘ یہ 2007ء تک نائب صدر رہے‘ وہ 2007ء سے 2017ء تک حکمران جماعت افریقن نیشنل کانگریس کے صدر بھی رہے اور یہ 9 مئی 2009ء سے اِس 14 فروری تک ملک کے صدر بھی رہے‘ جیک زوما پر کرپشن کے 783 الزامات لگے‘ یہ عدالتوں سے بری ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے پچھلے سال اکتوبر میں ان کے خلاف تمام کیسز دوبارہ کھول دیے‘ جنوبی افریقہ میں پاکستان جیسا بحران پیدا ہوا لیکن حکمران جماعت نے اس کا بہت شاندار حل نکالا‘ صدر جیک زوما کی اپنی پارٹی نے انہیں ملک اور پارٹی دونوں کی صدارت سے مستعفی ہونے کا حکم دے دیا چنانچہ صدر نے 14 فروری کو اپنی پارٹی کے دباؤ میں صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ ہماری حکمران جماعت اگر اس مثال سے کچھ سیکھنا چاہے تو یہ بہت کچھ سیکھ سکتی ہے ورنہ دوسری صورت میں ایک شریف کے بعد دوسرا شریف اور دوسرے کے بعد تیسرا اورپھر چوتھا شریف ڈس کوالی فائی ہوتا چلا جائے گا یہاں تک کہ پورا سسٹم بیٹھ جائے گا‘ باقی آپ خود سمجھ دار ہیں۔ احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد پنجاب کا پورا سسٹم بیٹھ گیا‘ سرکاری افسروں نے قلم چھوڑ ہڑتال ختم کر دی ہے لیکن بیورو کریسی میں خوف ابھی تک موجود ہے‘ افسروں نے فیصلے کرنے سے انکار کر دیا ہے‘پورا ملک حیران ہے ایک 20 گریڈ کا سرکاری افسر اتنا اہم کیوں ہے‘ بیورو کریسی اس گرفتاری پر اتنا احتجاج کیوں کر رہی ہے اور عمران خان کا فیصل سبحان بارے بیان، کہیں کوئی نیا پنڈورہ باکس تو نہیں کھلنے والا اور اگر احد چیمہ وعدہ معاف گواہ بن جاتے ہیں تو کیا میاں شہباز شریف بھی میاں نواز شریف جیسی مثال بن جائیں گے‘ یہ سارے سوال ہمارے آج کے پروگرام کا ایشو ہو گا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔