ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

بچوں کی فحش فلمیں بنانے میں پاکستان کا کونسا علاقہ سب سے آگے ہے،ایف آئی اے کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

datetime 29  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا کہنا ہے کہ ملک میں بچوں کی فحش (پورنوگرافک) فلمیں بنانے اور اْن کی برہنہ تصاویر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے کے معاملات میں صوبہ پنجاب کے وسطی علاقے سب سے آگے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پیر کو فیڈرل انویسٹی گیشن اتھاارٹی (ایف آئی اے)حکام کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بچوں کی عریاں فلمیں بنانے کے حوالے سے اب تک جو ایک درجن سے

زیادہ مقدمات درج کیے گئے ہیں ان میں سے بیشتر پنجاب میں ہوئے ہیں اور گرفتارشدگان کی اکثریت کا تعلق بھی وسطی پنجاب کے شہروں سے ہے۔ملکی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس معاملے پر الگ سے ایک ٹیم بنائی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے سائبر کرائم کے حکام ہی انٹرنیٹ سے متعلق تمام معاملات کو دیکھتے تھے۔اعلامیہ کے مطابق اس ضمن میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے علاوہ مقامی افراد سے بھی مدد حاصل کی جائے گی،ایسے افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی جو انٹرنیٹ پر مختلف لڑکیوں کی فحش تصاویر اپ لوڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے ہیں اور ان دنوں ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہیں،بچوں کے جنسی تشدد کے مواد کیخلاف پاکستان میں اس لیے موثر کارروائی نہیں ہوسکی کیونکہ یہاں پر متاثرہ لوگ متعلقہ حکام کو اس بارے میں شکایت درج نہیں کرواتے۔اعلامیہ میں واضح کی گیا کہ جن افراد کیخلاف کارروائی کی گئی ہے ان میں سے زیادہ تر معلومات مختلف ممالک سے انٹرپول کے ذریعے پاکستانی انٹرپول کو بھجوائی گئی تھیں۔دوسری جانب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی اے ٹی )نے بھی اس ضمن میں ایک خصوصی سیل قائم کیا ہے جو انٹرنیٹ پر بچوں کی عریاں تصاویر اپ لوڈ کرنے والوں کی نشاندہی کرے گا اور ان معلومات کی روشنی میں (ایف ائی اے) کا سائبر کرائم ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کرے گا۔

ایف آئی اے حکام نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کی فیس بک آئی ڈی کی فوری معلومات حاصل کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے بات کریں کیونکہ اس ضمن میں معلومات حاصل کرنے کے لیے تفتیش کاروں کو چار سے چھ ہفتے تک انتظار کرنا پڑتا ہے جو کہ ایسے مقدمات کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے میں تاخیر کا باعث بنتا ہے۔پاکستان میں جن افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے

ان میں زیادہ تر پاکستانی بچوں کی عریاں فلموں کی تیاری یا اپ لوڈنگ میں ملوث تھے۔ایف آئی اے کے اہلکار عمران حیدر کے مطابق پاکستانی بچوں کی عریاں تصاویر اور فلمیں انٹرنیٹ پر بھی فروخت ہو رہی ہیں اور ٹیم کے ارکان ان افراد کی تلاش بھی کر رہے ہیں جو اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں۔انھوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق ان مقدمات میں اب تک جتنے بھی افراد گرفتار کیے گئے ہیں ان میں سے زیادہ تر پڑھے لکھے اور پروفیشنل ڈگری ہولڈرز ہیں۔

ایف آئی اے نے حال ہی میں انٹرپول کینیڈا سے ملنے والی معلومات کے مدد سے جھنگ کے رہائشی تیمور مقصود کو بچوں کی پورنوگرافی پر مبنی ویڈیوز اور تصاویر رکھنے اور انٹرنیٹ پر جاری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔بچوں کی فحش فلمیں انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم تیمور مقصود بھی الیکٹریکل انجینئیر ہے۔ ملزم کو پیر کو مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور تفتیش کی غرض سے مقامی عدالت سے ملزم کا

جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔واضح رہے کہ قصور میں بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کے قتل کے واقعات سامنے آنے کے بعد (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل نے بچوں کے جنسی تشدد پر مبنی فلمیں بنانے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے ایک 2 رکنی ٹیم تشکیل دی ہے جو ملک میں ان واقعات کے سدباب کے لیے اقدامات کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…