جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

قصور، زینب کے قاتل عمران کی گرفتاری نے قصور پولیس کے پول کھول دےئے،فاطمہ سے زیادتی عمران نے کی پولیس نے مدثر کو مارکر اس کے بھائی اور والدین کے ساتھ کیا گھناؤناسلوک کیا؟شرمناک انکشافات

datetime 27  جنوری‬‮  2018 |

قصور(مانیٹرنگ ڈیسک) زینب کے قاتل عمران کی گرفتاری نے قصور پولیس کے مبینہ مقابلوں کے پول کھول دےئے ، پولیس نے 25فروری2017کو ایمان فاطمہ کے قاتل مدثر کو مقابلہ میں ہلاک کر دیا تھا مگر زینب کے ملزم عمران کے انکشاف نے مدثر کو بے گناہ ثابت کر دیا، مدثر کے ورثاء نے اس وقت کے ڈی پی او قصور، ڈی ایس پی ، ایس ایچ او صدر قصورکے خلاف عدالت میں رٹ دائر کردی ہے ۔

پولیس مقابلہ میں ہلاک ہونے والے مدثر کی والدہ جمیلہ بی بی زوجہ منیر احمد نے ایڈیشنل ڈسٹر کٹ اینڈ سیشن جج قصور ظفر اقبال کی عدالت میں رٹ دائر کی ہے کہ پیروالا روڈ میں 24فروری21017کوطواسین نامی شخص کی پانچ سالہ بیٹی امان فاطمہ کو کسی نا معلوم ملزم نے اغوا کیا اور زیادتی کے بعد اسے قتل کر کے اسکی نعش کو ایک زیر تعمیر مکان میں پھینک دیا اور اگلے دن ہی پولیس نے میرے بیٹے مدثر کو ایک جھوٹے مقابلے میں ہلاک کر دیا اورمقدمہ میرے دوسرے بیٹے عدنان اورعاشق نامہ شخص کے خلاف درج کر دیا جسے ہم جانتے بھی نہیں اور ہمیں جش کرانے کے لئے پولیس نے مدثر اور اسکے کزنوں کو غیر قانونی طور پر اپنی حراست میں رکھا اورجان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور جب ہم نے یقین دہانی کروائی کہ ہم پولیس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کریں گے تو پولیس نے ہم سے اپنی مرضی کے کاغذات پر دستخط کروا کرہمیں چھوڑ دیا ،جمیلہ بی بی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ڈی پی او قصور سید علی ناصر رضوی ، ڈی ایس پی صدر سرکل قصورمرزا عارف رشید اور ایس ایچ او قصور محمد یونس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے ، عدالت نے30جنوری کو الزام علیہ کو عدالت میں طلب کر لیا ہے ۔ پولیس نے 25فروری2017کو ایمان فاطمہ کے قاتل مدثر کو مقابلہ میں ہلاک کر دیا تھا مگر زینب کے ملزم عمران کے انکشاف نے مدثر کو بے گناہ ثابت کر دیا، مدثر کے ورثاء نے اس وقت کے ڈی پی او قصور، ڈی ایس پی ، ایس ایچ او صدر قصورکے خلاف عدالت میں رٹ دائر کردی ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…