ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

قصور، زینب کے قاتل عمران کی گرفتاری نے قصور پولیس کے پول کھول دےئے،فاطمہ سے زیادتی عمران نے کی پولیس نے مدثر کو مارکر اس کے بھائی اور والدین کے ساتھ کیا گھناؤناسلوک کیا؟شرمناک انکشافات

datetime 27  جنوری‬‮  2018 |

قصور(مانیٹرنگ ڈیسک) زینب کے قاتل عمران کی گرفتاری نے قصور پولیس کے مبینہ مقابلوں کے پول کھول دےئے ، پولیس نے 25فروری2017کو ایمان فاطمہ کے قاتل مدثر کو مقابلہ میں ہلاک کر دیا تھا مگر زینب کے ملزم عمران کے انکشاف نے مدثر کو بے گناہ ثابت کر دیا، مدثر کے ورثاء نے اس وقت کے ڈی پی او قصور، ڈی ایس پی ، ایس ایچ او صدر قصورکے خلاف عدالت میں رٹ دائر کردی ہے ۔

پولیس مقابلہ میں ہلاک ہونے والے مدثر کی والدہ جمیلہ بی بی زوجہ منیر احمد نے ایڈیشنل ڈسٹر کٹ اینڈ سیشن جج قصور ظفر اقبال کی عدالت میں رٹ دائر کی ہے کہ پیروالا روڈ میں 24فروری21017کوطواسین نامی شخص کی پانچ سالہ بیٹی امان فاطمہ کو کسی نا معلوم ملزم نے اغوا کیا اور زیادتی کے بعد اسے قتل کر کے اسکی نعش کو ایک زیر تعمیر مکان میں پھینک دیا اور اگلے دن ہی پولیس نے میرے بیٹے مدثر کو ایک جھوٹے مقابلے میں ہلاک کر دیا اورمقدمہ میرے دوسرے بیٹے عدنان اورعاشق نامہ شخص کے خلاف درج کر دیا جسے ہم جانتے بھی نہیں اور ہمیں جش کرانے کے لئے پولیس نے مدثر اور اسکے کزنوں کو غیر قانونی طور پر اپنی حراست میں رکھا اورجان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور جب ہم نے یقین دہانی کروائی کہ ہم پولیس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کریں گے تو پولیس نے ہم سے اپنی مرضی کے کاغذات پر دستخط کروا کرہمیں چھوڑ دیا ،جمیلہ بی بی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ڈی پی او قصور سید علی ناصر رضوی ، ڈی ایس پی صدر سرکل قصورمرزا عارف رشید اور ایس ایچ او قصور محمد یونس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے ، عدالت نے30جنوری کو الزام علیہ کو عدالت میں طلب کر لیا ہے ۔ پولیس نے 25فروری2017کو ایمان فاطمہ کے قاتل مدثر کو مقابلہ میں ہلاک کر دیا تھا مگر زینب کے ملزم عمران کے انکشاف نے مدثر کو بے گناہ ثابت کر دیا، مدثر کے ورثاء نے اس وقت کے ڈی پی او قصور، ڈی ایس پی ، ایس ایچ او صدر قصورکے خلاف عدالت میں رٹ دائر کردی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…