ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

نقیب اللہ 10روز سے پولیس کی حراست میں تھا، بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا،تحقیقاتی رپورٹ میں چونکادینے والے انکشافات

datetime 27  جنوری‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کپڑوں کے تاجر نقیب اللہ کے قتل کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیدیا جب کہ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ راؤ انوار نے 745 پولیس مقابلے کئے جن میں 444 افراد کو قتل کیا۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نقیب اللہ قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس میں انکوائری کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی ثنا اللہ عباسی کی رپورٹ پیش کردی گئی۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ بادی النظر میں پولیس مقابلہ جعلی تھا، نقیب اللہ کو 3جنوری 2018 کو ابوالحسن اصفہانی روڈ پر چائے کے ہوٹل سے دو دوستوں کیساتھ حراست میں لیا گیا۔ نقیب اللہ، حضرت علی اور قاسم کو اٹھانے کے بعد انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، حضرت علی اور قاسم کو 6 جنوری کو چھوڑ دیا گیا، تاہم نقیب اللہ کو رہا نہیں کیا گیا بلکہ ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل کیا جاتا رہا، 13جنوری کو نقیب اللہ کو طے شدہ مقابلے میں قتل کردیا گیا۔رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر نقیب اللہ کی پروفائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لبرل شہری تھا، نقیب ایک محبت کرنے والا شخص اور ماڈلنگ کا شوقین ظاہر ہوتا ہے، معطل ایس ایس پی ملیر را انوار کی جانب سے جس نقیب اللہ کی رپورٹ پیش کی گئے یہ وہ نقیب اللہ نہیں ہے،را انوار اور اسکے ساتھی جان بوجھ کر تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو پیش نہیں ہوئے۔تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق راانوار کا یہ طرز عمل نہ صرف مس کنڈکٹ اور قانون کی راہ میں رکاوٹ بننے کے مترادف ہے، بلکہ اس نے جعلی دستاویزات پر ملک سے فرار ہونے کی بھی کوشش کی، حالانکہ را انوار جانتا تھا کہ اسکے خلاف اعلی تحقیقات چل رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دوران تحقیق یہ بات سامنے آئی کہ اس واقعے کے عینی شاہدین شدید خوف کا شکار بھی ہیں۔علاوہ ازیں 2011 سے 2018 کے دوران را انوار کے پولیس مقابلوں کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق را انوار نے 7سال میں 745 پولیس مقابلے کئے۔

ان میں سے 192مقابلوں میں 444ملزمان کو ہلاک کیا جبکہ 89ملزمان کی گرفتاری ظاہر کی گئی۔ 553مقابلوں میں کوئی ملزم ہلاک یا گرفتار نہیں ہوا۔ سب سے زیادہ 195پولیس مقابلے 2012میں ہوئے جبکہ 2014میں 186مقابلوں میں 152ملزمان ہلاک ہوئے اور گزشتہ برس 93مقابلوں میں 110ملزمان ہلاک ہوئے۔واضح رہے کہ نقیب اللہ سمیت 4 نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے الزام میں سابق ایس ایس پی ملیر را انوار کو اپنی پوری پولیس پارٹی سمیت معطل کردیا گیا ہے جس کے بعد سے وہ روپوش ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…