ہفتہ‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2025 

نقیب اللہ محسود کاقتل، ایف آئی آر میں نامزد ملزم کا بھائی اور والد بھی مقابلے میں مارے جاچکے ،اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرتا رہا ہے،تحقیقاتی کمیٹی

datetime 20  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(نیوزڈیسک) پولیس مقابلے میں مارے گئے نقیب اللہ محسود کے قتل کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق نقیب اللہ نامی جس شخص پر مقدمات درج ہیں وہ راؤ انوار کے پولیس مقابلے میں مارے جانے والا نقیب اللہ نہیں ہے۔ذرائع تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد ملزم کا بھائی اور والد بھی مقابلے میں مارے جاچکے ہیں، جبکہ وہ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرتا رہا ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق راؤ انوار کے پولیس مقابلے میں مارے گئے نقیب اللہ پر کوئی مقدمہ درج نہیں۔ مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے نقیب اللہ کے قتل کا مقدمہ اب تک درج نہیں ہوسکا ہے۔اس معاملے میں تحقیقاتی کمیٹی مقدمہ درج کرانے کے لیے نقیب اللہ کے اہل خانہ کی منتظر ہے جو نقیب اللہ کی تدفین کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں۔ذرائع تحقیقاتی کمیٹی نے بتایاکہ اگر نقیب اللہ کے اہل خانہ نے مقدمہ درج نہ کروایا تو پھر مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا جائے گا۔واضح رہے کہ نقیب اللہ محسود کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی معطلی کی سفارش بھی کی گئی ہے جبکہ ان کا نام ای سی ایل میں بھی ڈال دیا گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز نقیب اللہ کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس کے بے قصور ہونے کا ایک ثبوت مل گیا ہے، اس کے مطابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں کیے جانے والے آپریشن میں ہلاک ہونے والے نقیب اللہ محسود جو کہ قبائلی نوجوان کے بارے میں مزید تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں اس نوجوان نقیب اللہ کے پاس آئی ڈی پی کا کارڈ موجود ہے جو کہ اس کی بے گناہی کا ثبوت ہے۔ یہ کارڈ قبائلی علاقے سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو دیے گئے ہیں، جس وقت قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو اس وقت ان قبائلیوں کو آئی ڈی پی کارڈ جاری کیے گئے تھے،

اس وقت کسی بھی شخص کو بغیر آئی ڈی پی کارڈ حاصل کیے کہیں جانے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی یہ اجازت اب ہے اور یہ آئی ڈی پی کارڈ پاک فوج کی طرف سے کسی بھی شخص کو اس وقت جاری کیا جاتا ہے جب مکمل تحقیق کے بعد اس کلیئر قرار دیا جاتا ہے لیکن کوئی شخص مشکوک ہو تو اسے یہ کارڈ ہرگز جاری نہیں کیا جاتا اور اسے گرفتار کرکے مزید تحقیق کی جاتی ہے، دس سال پہلے نقیب اللہ نے وزیرستان سے کراچی منتقل ہونے کے لیے کارڈ حاصل کیا تھا۔ پاک آرمی نے تفتیش کے بعدہی نقیب اللہ محسود کو آئی ڈی پی کارڈ جاری کیا تھا اور اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نقیب اللہ محسود مشکوک کردار کا حامل نہیں تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…