جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

روس اور چین ڈٹ گئے، کینیڈا کا بیت المقدس میں سفارتخانہ منتقل کرنے سے انکار، بھارت کی پراسرار خاموشی، دنیابھر کے غیر اسلامی ممالک کے ردعمل نے امریکہ اور اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا

datetime 8  دسمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مقبوضہ بیت المقدس /برلن/ٹورنٹو(این این آئی)مقبوضہ بیت المقدس کیخلاف امریکی اقدام پر روس اور چین ڈٹ گئے،میڈیارپورٹس کے مطابق چین نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی مخالفت کردی اور کہا کہ مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت مانتے ہیں۔روسی صدر پیوٹن نے امریکی فیصلے پر اظہار تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے

اقدامات خطے میں ممکنہ امن عمل میں روکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔واضح رہے کہ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب میں ہی رکھنے کا اعلان کردیا ہے تاہم بھارت نے امریکی فیصلے کے حوالے سے کوئی واضح اور دو ٹوک موقف دینے سے گریز کیاہے۔جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہاہے کہ جرمن حکومت مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت جاری رکھے گی۔ اس قرار داد کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے یروشلم کی حیثیت پر مذاکرات ہونا ہیں۔ چانسلر میرکل کا کہنا تھا کہ جرمنی دو ریاستی حل کے لیے مذاکرات کا حامی ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد بھی میرکل نے کہا تھا کہ جرمنی ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے سے متفق نہیں ہے۔ دوسری جانب کینیڈا نے بھی امریکا کی مخالفت کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب میں ہی رکھنے کا اعلان کیا ہے ، دوسری جانب بھارت نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے پر واضح ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈونے ایک بیان میں کہاکہ کینیڈا کا سفارتخانہ تل ابیب سے منتقل نہیں کر رہے،

جبکہ کینیڈین وزارت خارجہ نے کہا کہ یروشلم کا فیصلہ اسرائیل، فلسطین تنازع کے حل پر ہی انحصار کرتا ہے، کینیڈا دو ریاستی حل کے موقف پر قائم ہے۔ترجمان بھارتی وزارت خارجہ نے محتاط رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ فلسطین پر بھارت کا آزادانہ موقف برقرار ہے، فلسطین سے متعلق موقف بھارتی مفادات کے مطابق ہے۔بھارتی موقف کسی تیسرے ملک کے مفاد کے تحت نہیں، اسرائیل سے

تعلقات مضبوط کرنے کے ساتھ بھارت روایتی طور پر فلسطین تحریک کی حمایت کرتا رہا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…