پیر‬‮ ، 15 جون‬‮ 2026 

مشرف کو کس نے باہر بھیجا؟نوازشریف کیخلاف سازش کس نے کی؟پرویز رشیدکے دھماکہ خیزانکشافات،نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

datetime 18  اگست‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی) سابق وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ بہت سی سچائیاں اپنے وقت کے ساتھ ثابت ہو جاتی ہیں ،جمہوریت ابھی نا تواں ہے یہ کبھی لڑکھڑاتی ہے اوردھکے کھا جاتی ہے اس کو بچانے کیلئے میری ذات کی قربانی دینی پڑی ہے تومیں نے خوشی سے دی ہے ،پرویز مشرف کی بد روح سیاستدانوں اور کہیں نہ کہیں اداروں کے افراد میں بھی موجود ہے اس کو تبدیل بھی کرنا ہوگا راستہ بھی روکنا ہوگا اور اس کا مقابلہ بھی کرنا ہوگا،

پرویزمشرف کو ہم نے باہر نہیں بھیجا لیکن روک بھی نہیں سکے۔ نجی ٹی وی کو انٹر ویو میں پرویز رشید نے کہا کہ اس سے پہلے جب وزرائے اعظم نکالے جاتے تھے اور اپنے گھروں کو جاتے تھے تو لوگوں کو دو چار ماہ ان کانام بھی یاد نہیں آتا تھا لیکن اس مرتبہ لوگوں کا فوری رد عمل آیا ہے۔میرے خیال میں پاکستان میں ایک روح ہے جو پھرتی رہتی ہے بلکہ بد روح ہے جسے میں مشرف کا نام دیتا ہوں ۔ یہ بد روح سیاسی جماعتوں ،سیاسی ذہنوں میں بھی موجود ہے کہیں نہ کہیں دوسرے اداروں میں بھی موجود ہے ، میں اداروں کا نام نہیں لیتا یہ افراد ہیں۔ اس سوچ کے نتیجے میں سب کچھ ہوتا ہے ۔ تحریک انصاف نے جو کچھ کیا وہ مہرے کا کردار ہے کیا وہ اس سوچ کے مہرے نہیں ،اس سوچ کو تبدیل بھی کرنا پڑے گا اس کا راستہ بھی روکنا ہوگا اور اس کا مقابلہ بھی کرنا ہوگا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’وہ ‘‘خود اپنی زبان سے کہہ چکے ہیں انہیں بھیجنے میں کسی اور نے مدد کی تھی ،بھیجنے میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے ہم روک نہیں سکے اس لئے کہ روکنے کا کام ہم اکیلے نہیں کر سکتے تھے اس کے لئے پوری ریاست کے تمام اداروں کی مدد چاہیے تھی جو ہمیں میسر نہیں ہو سکی بہت سے اداروں کا مل کر کام ہوتا ہے۔ انہوں نے اس سوال کہ وزیر داخلہ آپ کا تھا کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے خلاف فیصلے ہوئے ہیں،

جے آئی ٹی بنی ہوئی ہے ،وٹس ایپ بھی ہوئے بلکہ بہت کچھ ہو جاتا ہے ۔وزیر داخلہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے خلاف فیصلے ہوئے ہیں،جے آئی ٹی بنی ہوئی ہے ،وٹس ایپ بھی ہوئے بلکہ بہت کچھ ہو جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنا سورس بیشک ظاہر نہ کرتے لیکن جو ان کا سورس نہیں تھے اور انہیں سزا دی جارہی تھی کم سے کم یہ کہتے یہ ہمارے سورس نہیں تھے ۔انہوں نے کہا کہ میں ایک سیاسی کارکن ہوں اور سیاسی کارکن کے طور پر اپنا کردر پہلے بھی کردار ادا کرتا تھا اور اب بھی ادا کر رہا ہوں۔ بہت سی سچائیاں اپنے وقت کے ساتھ ثابت ہو جاتی ہیں اور جمہوریت جو کہ ابھی نا تواں ہے لڑکھڑاتی ہے دھکے کھا جاتی ہے اس کو بچانے کے لئے میری ذات کی قربانی دینی پڑی ہے تومیں نے خوشی سے دی اورمیرے وزیر اعظم اسی فلسفے پر یقین رکھتے ہیں اور صبر سے کام لیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…