منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کشمیر ہاؤس اسلام آباد مے خانے میں تبدیل ،شراب نوشی معمول بن گئی

datetime 18  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن ) کشمیر ہاؤس اسلام آباد مے خانے میں تبدیل ہو کر رہ گیا، ہاؤس میں شراب پینا پلانا معمول کی بات ہے جبکہ کمرے بھی مے خواروں کے لیے مخصوص کر دئیے گئے، جا بجا بکھری شراب کی بوتلوں نے نون لیگ حکومت کی عیاشیوں کا پول کھو ل دیا۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع کشمیر ہاؤس شرابیوں کی آماجگاہ بن کر رہ گیاہے، ہاؤس کے احاطے میں ہر طرف شراب کی خالی بوتلیں بکھری پڑی ہیں جس سے حکمرانوں کی عیاشیوں کی داستاں کھل کر سامنے آگئی ہے،

وزیر اعظم ہاؤس ، آئی جی آزاد کشمیر اور چیف سیکریٹری کے دفاتر کے عقب میں میلٹی پرپز ہال کی دیوار سے ملحقہ علاقے میں شراب کی سینکڑوں بوتلیں بکھری پڑی ہیں جبکہ متعدد مرتبہ ریسٹ ہاؤس کے کمروں کی الماریوں میں بھی شراب کی خالی بوتلیں دیکھنے کو ملی ہیں۔ زرائع کا کہنا ہے کہ کشمیر ہاؤس کی انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے ہاؤس میں آئے روز محفل جام سجائی جاتی ہے جس میں کئی پردہ نشیں اپنا غم غلط کرنے کو شریک ہوتے ہیں۔ زرائع کا مزید کہنا ہے کہ کشمیر ہاؤس میں انتظامیہ کی جانب سے صرف ممبران اسمبلی اور وزراء کے چہیتوں کو مقررہ داموں پر کمرے دیے جاتے ہیں جبکہ باقی ماندہ کمرے شراب نوشوں کے لیے مخصوص کر دیے جاتے ہیں اور مبینہ طور پر ان کمروں کا کرایہ بھی مقررہ داموں سے کہیں زیادہ لیا جاتا ہے، زائد لیے جانے والے کرایہ کی یہ رقم حکومت کے خزانے میں جانے کے بجائے افسران بالا کی شاہ خرچیوں کی نظر ہو جاتا ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے نام نہ ظاہر کیے جانے کی شرط پر بتایا ہے کہ کشمیر ہاؤس میں رات گئے تک چرس کی محفلیں بھی لگی رہتی ہیں، کمروں کی کھڑکیوں اور دروازوں سے نکلنے والے چرس کے دھویں کی بدبو چاروں طرف پھیلی رہتی ہے۔ ہاؤس میں ٹھہرے ایک مہمان کا کہنا تھا یہ ہاؤس تو کسی شراب کے اڈے کا منظر پیش کر رہا ہے، انہیں اس صورتحال کا اندازہ ہوتا تووہ یہاں رہنے کا فیصلہ کبھی نہ کرتے۔

دوسری جانب کشمیر ہاؤس کے اوس پڑوس میں رہائش پزیر افراد بھی اس ساری صورتحال سے نالاں ہیں اور انہوں نے آن لائن کے توسط سے متعلقہ حکام سے ان عناصر کے خلاف کاروائی کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی کشمیر ہاؤس شراب نوشی اور حکومتِ طبقے کی عیاشیوں کے باعث اخبارات کی زینت بنا رہا ہے تاہم انتظامیہ اور حکومتی طبقے کے کان پر جوں تک نہ رینگی نہ انہوں نے اپنی روش ہی تبدیل کی، دوسری جانب جب کشمیر ہاؤس کے انچارج سٹیٹ آفسر سے ٹیلفونک رابطہ کرنے کی کوشش کی تو متعدد مرتبہ کال اور میسج موصول ہونے کے باوجود انہوں نے جواب نہیں دیا جبکہ وزیراعظم کے پریس سیکرٹری اور ڈی جی پی ایم سیکرٹریٹ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سٹیٹ آفسر سے رابطہ کیا جائے ،واضح رہے کہ کشمیر ہاؤس میں ریسٹ ہاؤس کے علاوہ وزیراعظم آزاد کشمیر اور صدر آزاد کشمیر کے کیمپ آفسز کے علاوہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کے کیمپ آفسز بھی موجود ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…