جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم کی جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد دھماکے دار خبر، اسمبلی تحلیل ہو سکتی ہے!!

datetime 15  جون‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)آج کے دن وزیر اعظم نواز شریف کی جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد دوسری بڑی خبر آ گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ںے بجٹ سیشن میں اپنی تقریر کے دوران سندھ حکومت کے تحلیل ہو جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ اسمبلی اپنی مدت پوری نہ کرسکے اور تحلیل ہوجائے۔وہ بجٹ سیشن کے دوران بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایوان سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ

میں بجٹ پربات کرنے والا 100 واں اسپیکرہوں اور کل تک سندھ حکومت 161 ارب روپے استعمال کرچکی ہے جب کہ جولائی2016 میں 45 بلین جاری کیے تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بجٹ کے استعمال میں سندھ حکومت کی کارکردگی سب سے بہتر ہے جب کہ کے پی کے نے سب سے کم بجٹ استعما ل کیا ہے اس لیے سندھ حکومت پر بجٹ جاری نہیں کرنے کا الزام بے بنیاد اورمن گھڑت ہے اور اب میں کے ایم سی سمیت تمام اداروں سے ایک ایک پائی کا حساب لوں گا۔اپنی حکومت کی کارکردگی کا زکر کرتے ہوئے جہاں انہوں نے شاہراہ فیصل کی تعمیر، یونیورسٹی روڈ کی تزئین و آرائش، طارق روڈ کی تکمیل اور پانی کے منصوبے کے-فور کا تزکرہ کیا وہیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت سے شکوہ کیا کہ اس وقت تک سندھ کو وفاق سے68 ارب کم ملے ہیں جس سے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔اس موقع پر اراکین ایم کیو ایم اختیار دو اختیار دو ، میئر کو اختیار دو کے نعرے لگاتے ہیں جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کو بولنے دیں ایسا نہ ہوں کہ ایم کیو ایم پاکستان کی کوئی چوتھی جماعت نہ بن جائے، مجھے تو آج پتہ چلا ہے کہ یہ اب ایم کیو ایم پاکستان بن چکے ہیں۔انہوں نے اراکین ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تفریق آپ لوگوں نے پیدا کی اور لسانیت کی باتیں آپ نے کی ہیں آپ لوگوں کوعوام کو تقسیم کرنے کے بجائے کچھ نہیں ملتا

اورنہ ہی اب آپ کو دوبارہ دہشت گردی اورچائنا کٹنگ کا موقع ملے گا، سندھ کے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ان لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ لوگ بے وقوف بننے والے نہیں۔زرائع کے مطابق جہاں بجٹ سیشن میں وزیراعلیٰ نے ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانہ بنایا

تو دوسری طرف وزیراعلٰی سندھ اپوزیشن جماعت ایم کیو ایم سے اسمبلی سے بجٹ منظورکرانے کی کوششیں تیزکردیں ہیں جس کی بنیادی وجہ اسمبلی تحلیل ہونے کا خدشہ ہے جس کا اظہار انہوں نے اپنی تقریرمیں بھی کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…