جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف قمرباجوہ نے افغانستان کو انتباہ کردیا

datetime 14  جون‬‮  2017 |

راولپنڈی/ پشاور(این این آئی)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ا فغانستان کو ایک برادر ہمسایہ سمجھتے ہیں ،دہشتگرد ہمارے مشترکہ دشمن ہیں اس لئے اس خطرے سے نمٹنے کیلئے الزام تراشی کی بجائے اعتماد کی بنیاد پر مربوط رد عمل کی ضرورت ہے، یکطرفہ ڈرون حملے تعاون کیلئے نقصان دہ ہیں، پاک فوج سے اگر قابل عمل انٹیلی جنس شیئر کی جائے تو وہ خود موثر اقدامات کی صلاحیت رکھتی ہے

، ہماری توجہ آپریشن کی کامیابیوں کو فاٹا میں پائیدار امن اور استحکام کی شکل میں منتقل کرنے پر مرکوز ہے جس کیلئے اصلاحات کے ذریعے فاٹا کو جلد قومی دھارے میں لانا ضروری ہے،پاک فوج کامیابیوں کو مستحکم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی، فوج پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ بننے والے خطرات سے نجات کیلئے تمام دوسرے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بدھ کو پشاور کور ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا ۔ آرمی چیف کو پاک افغان سرحد کی صورتحال ، جاری اور مستقبل کے آپریشنز ، ترقیاتی کام کے حوالے سے پیش رفت اور عارضی بے گھر افراد کی واپسی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیکیورٹی صورتحال میں بہتری اور باڑ لگانے سمیت بہتر بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے کئے اقدامات کو سراہا۔ پاک فوج کے سربراہ نے فوجیوں کی پیشہ ورانہ تیاری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ ہر طرح کے خطرات کیخلاف چوکس رہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کو ایک برادر ہمسایہ سمجھتے ہیں اور دہشتگرد ہمارے مشترکہ دشمن ہیں اس لئے اس خطرے سے نمٹنے کیلئے الزام تراشی اور غیر ضروری جھڑپوں کی بجائے اعتماد کی بنیاد پر مربوط رد عمل کی ضرورت ہے ۔ آرمی چیف نے کہا کہ یکطرفہ ڈرون حملوں جیسے

اقدامات تعاون کیلئے نقصان دہ اور اسکی رو ح کے منافی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج سے اگر قابل عمل انٹیلی جنس شیئر کی جائے تو وہ موثر اقدامات کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ آپریشن کی کامیابیوں کو فاٹا میں پائیدار امن اور استحکام کی شکل میں منتقل کرنے پر مرکوز ہے جس کیلئے اصلاحات کے ذریعے فاٹا کو جلد قومی دھارے میں لانا ضروری ہے اور پاک فوج اس حوالے سے کی جانیوالی تمام کوششوں کی مکمل حمایت کرتی ہے ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ ہمارے قبائلی بھائیوں نے اپنی حمایت تعاون اور عزم سے اپنی سیکیورٹی فورسز کو آپریشنز کے دوران کامیاب ہونے کے قابل بنایا اور اب ان کیلئے بلاخوف اور معیاری سماجی زندگی گزارنے کا وقت آ گیا ہے ۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج کامیابیوں کو مستحکم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ فوج پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ بننے والے خطرات سے نجات کیلئے تمام دوسرے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ قبل ازیں کور ہیڈ کوارٹرز آمد پر آرمی چیف کا استقبال کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…