ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

آرمی چیف قمرباجوہ نے افغانستان کو انتباہ کردیا

datetime 14  جون‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

راولپنڈی/ پشاور(این این آئی)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ا فغانستان کو ایک برادر ہمسایہ سمجھتے ہیں ،دہشتگرد ہمارے مشترکہ دشمن ہیں اس لئے اس خطرے سے نمٹنے کیلئے الزام تراشی کی بجائے اعتماد کی بنیاد پر مربوط رد عمل کی ضرورت ہے، یکطرفہ ڈرون حملے تعاون کیلئے نقصان دہ ہیں، پاک فوج سے اگر قابل عمل انٹیلی جنس شیئر کی جائے تو وہ خود موثر اقدامات کی صلاحیت رکھتی ہے

، ہماری توجہ آپریشن کی کامیابیوں کو فاٹا میں پائیدار امن اور استحکام کی شکل میں منتقل کرنے پر مرکوز ہے جس کیلئے اصلاحات کے ذریعے فاٹا کو جلد قومی دھارے میں لانا ضروری ہے،پاک فوج کامیابیوں کو مستحکم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی، فوج پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ بننے والے خطرات سے نجات کیلئے تمام دوسرے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بدھ کو پشاور کور ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا ۔ آرمی چیف کو پاک افغان سرحد کی صورتحال ، جاری اور مستقبل کے آپریشنز ، ترقیاتی کام کے حوالے سے پیش رفت اور عارضی بے گھر افراد کی واپسی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیکیورٹی صورتحال میں بہتری اور باڑ لگانے سمیت بہتر بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے کئے اقدامات کو سراہا۔ پاک فوج کے سربراہ نے فوجیوں کی پیشہ ورانہ تیاری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ ہر طرح کے خطرات کیخلاف چوکس رہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کو ایک برادر ہمسایہ سمجھتے ہیں اور دہشتگرد ہمارے مشترکہ دشمن ہیں اس لئے اس خطرے سے نمٹنے کیلئے الزام تراشی اور غیر ضروری جھڑپوں کی بجائے اعتماد کی بنیاد پر مربوط رد عمل کی ضرورت ہے ۔ آرمی چیف نے کہا کہ یکطرفہ ڈرون حملوں جیسے

اقدامات تعاون کیلئے نقصان دہ اور اسکی رو ح کے منافی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج سے اگر قابل عمل انٹیلی جنس شیئر کی جائے تو وہ موثر اقدامات کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ آپریشن کی کامیابیوں کو فاٹا میں پائیدار امن اور استحکام کی شکل میں منتقل کرنے پر مرکوز ہے جس کیلئے اصلاحات کے ذریعے فاٹا کو جلد قومی دھارے میں لانا ضروری ہے اور پاک فوج اس حوالے سے کی جانیوالی تمام کوششوں کی مکمل حمایت کرتی ہے ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ ہمارے قبائلی بھائیوں نے اپنی حمایت تعاون اور عزم سے اپنی سیکیورٹی فورسز کو آپریشنز کے دوران کامیاب ہونے کے قابل بنایا اور اب ان کیلئے بلاخوف اور معیاری سماجی زندگی گزارنے کا وقت آ گیا ہے ۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج کامیابیوں کو مستحکم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ فوج پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ بننے والے خطرات سے نجات کیلئے تمام دوسرے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ قبل ازیں کور ہیڈ کوارٹرز آمد پر آرمی چیف کا استقبال کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…