جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

اسلامی عسکری اتحاد کے معاملے پر پاکستان میں بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا،اعلیٰ ترین شخصیات میں ٹھن گئی

datetime 30  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے اسلامی عسکری اتحاد کے دائرہ کار کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر دفاع اور خارجہ امور کے سیکرٹریز کو ایوان بالا کا استحقاق مجروح کرنے کا ذمہ دار قرار دے دیا‘ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز کو بدھ کو (آج) دن گیارہ بجے ایوان میں طلب کرلیا گیا ہے‘ انہوں نے سخت ریمارکس دیئے ہیں کہ پارلیمنٹ کو بند کیوں نہ کردیں‘

دونوں وزارتیں متذکرہ معلومات کیک فراہممی سے معذرت کررہی ہیں۔ گزشتہ روز سینٹ کے اجلاس کے دوران پی پی پی کے رہنما سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے سعودی حکام کے بیانات کہ اسلامی ملٹری الائنس نہ صرف دہشت گرد تنظیموں جیسے کہ داعش اور القاعدہ کو روکے گی بلکہ یہ کسی رکن ملک کے لئے خطرے کا باعث بننے والے باغی گروہوں کے خلاف اس ملک کی درخواست پر کارروائی کرے گا سے متعلق وزیر دفاع کی توجہ مبذول کروانے کا نوٹس پیش کیا۔ نوٹس پیش ہونے کے موقع پر ایوان بالا میں موجود واحد وزیر ریاض حسین پیرزادہ بھی اٹھ کر چلے گئے۔ محرک نے کہا کہ آج بھی وزیر دفاع ایوان سے غیر حاضر ہیں۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے سخت ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ کو بند کیوں نہ کردیں کوئی بھی وزیر ایوان میں موجود نہیں ہے۔ 29مئی کو بھی یہ نوٹس ایجنڈا پر موجود تھا بتایا گیا کہ یہ معاملہ وزارت خارجہ سے متعلق ہے وزارت کی وجہ سے بات کی گئی تو جواب آیا کہ ان کے دائرہ کار میں یہ معاملہ نہیں ہے ان کے پاس یہ معلومات نہیں ہیں۔ وزارت دفاع بھی جواب سے انکاری ہے کیا پارلیمنٹ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اسے اسلامی ملٹری الائنس سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں۔ تفصیلات کی فراہمی کی بجائے اسے تھالی کا بینگن بنایا جارہا ہے۔ اس طرز عمل کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

پارلیمنٹ کو کٹی ہوئی گھاس سمجھ لیا گیا ہے۔ نوٹس کے محرک نے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ دونوں سیکرٹریز نے استحقاق مجروح کیا ۔ چیئر مین سینٹ نے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خارجہ امور کو استحقاق مجروح کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے بدھ کو (آج) گیارہ بجے دن وزیر دفاع اور مشیر خارجہ کو طلب کرلیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…