جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ملک کے اہم ترین ایئرپورٹ کی غیرملکی کمپنی کو فروخت،بڑا قدم اُٹھالیاگیا، حیرت انگیزانکشافات

datetime 30  مئی‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی)لاہور ہائیکورٹ نے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی نجکاری روکتے ہوئے وفاقی حکومت سے استفسار کیا ہے کہ ائیرپورٹس غیر ملکی کمپنیوں کو فروخت کر دئیے تو قومی سلامتی کا تحفظ یقینی کیسے ہوگا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے سول ایوی ایشن کے ملازمین اور پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر مبشر حسن کی لاہور، کراچی اور اسلام آباد ائیرپورٹس کی

نجکاری کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی۔درخواست گزاروں کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ لاہور سمیت تینوں ائیرپورٹس کے اربوں روپے کے اثاثے کوڑیوں کے بھا فروخت کیے جا رہے ہیں۔ غیرملکی کمپنیوں یا ملکی کمپنیوں کو ائیرپورٹس فروخت کرنا قومی سلامتی کو بیچنے کے مترادف ہے۔ اگر جنگی صورتحال میں کسی کمپنی نے جنگی جہازوں کو ائیرپورٹس پر لینڈ کرنے کی اجازت نہ دی تو پھر حکومت کیسے ملکی سلامتی کا دفاع کریگی لہٰذا ائیرپورٹس کی نجکاری غیرقانونی قرار دی جائے۔ عدالتی نوٹسز کی تعمیل میں وفاقی حکومت اور سول ایوی ایشن کے وکلا پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ ائیرپورٹس کی نجکاری موخر کی جا چکی ہے جبکہ درخواست گزار ڈاکٹر مبشر حسن نے نشاندہی کی ہے کہ عدالت میں جھوٹ بولا جا رہا ہے اور ایوی ایشن میں نجکاری کا عمل خفیہ طریقے سے مکمل کیا جا رہا ہے۔فاضل عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے حکومت سے استفسار کیا ہے کہ غیرملکی کمپنیوں کو ائیرپورٹس فروخت کرنے کے بعد قومی سلامتی کا تحفظ کیسے یقینی ہوگا۔عدالت نے مزید سماعت 4 ہفتوں کیلئے ملتوی کرتے ہوئے وفاقی حکومت، سیکرٹری کابینہ اور سول ایوی ایشن اتھارٹی سے تفصیلی جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ائیرپورٹس کی نجکاری کا مکمل ریکارڈ بھی پیش کرنیکی ہدایت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…