جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پاکستان نے بھارت کو سی پیک منصوبے میں شمولیت کی پیشکش کر دی

datetime 7  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی )وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی امور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈناصر جنجوعہ نے کہاہے کہ جہاد کے نام پر کالعدم ٹی ٹی پی کوپاکستان کے خلاف استعمال کیا گیا،امریکہ پاکستان کی قربانیوں کے باعث آج سپرپاور ہے‘ کہا جاتا ہے کہ پاکستان طالبان کا ساتھ دے رہا ہے اگر ایسا ہے تو پاکستانی طالبان ہمارے خلاف کیوں لڑرہے ہیں؟ پاکستان میں شدت پسندی افغان

جنگ کی وجہ سے پیدا ہوئی، آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے نتائج پوری دنیا نے دیکھے، ہم نے بلوچستان، خیبر پختونخوا ،فاٹا اور کراچی میں دہشتگردی پر قابو پالیا ، پاکستان مضبوط معاشی طاقت بننے جا رہا ہے، اب پاکستان دنیا بھر کا تجارتی حب بننے جا رہا ہے، پاک چین اقصادی راہدری ہمیں ایشیا ہی نہیں دنیا بھرسے جوڑ دے گی، بھارت کو سی پیک میں شمولیت کی پیش کش کرتے ہیں۔اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران ناصر جنجوعہ نے کہا کہ ہم چالیس سال سے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، القاعدہ اور داعش کو پاکستان نے نہیں بنایا لیکن سازش کی وجہ سے پاکستان کے بارے میں غلط تاثر پایا جاتا ہے، دنیا کو یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے، آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے نتائج پوری دنیا نے دیکھے، ہم نے بلوچستان، خیبر پختونخوا ،فاٹا اور کراچی میں دہشتگردی پر قابو پالیا ہے۔ چین اور روس سے اتحاد نے پاکستان کا مستقبل روشن کردیا۔ پاکستان مضبوط معاشی طاقت بننے جا رہا ہے، اب پاکستان دنیا بھر کا تجارتی حب بننے جا رہا ہے، پاک چین اقصادی راہدری ہمیں ایشیا ہی نہیں دنیا بھرسے جوڑ دے گی۔ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ افغانستان کی سلامتی پاکستان کے ساتھ جڑی ہے، پاک افغان سرحد 2 ہزار611 گیارہ کلومیٹر طویل ہے، بارڈر گیٹ کے علاوہ بلوچستان سے افغانستان جانے

کے 200 جب کہ خیبر پختونخوا سے 128 راستے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چالیس سال سے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، پاکستان کئی برس سے طالبان کی دہشت گردی کا شکار ہے، ہمارے جہاد کے رجحان کو استعمال کیا گیا، جہاد کے نام پر تحریک طالبان پاکستان کو ہمارے خلاف استعمال کیا گیا۔ پاکستان نے طالبان کے خلاف کاروائیاں کی توانھوں نے پاکستان سے جہاد کا فتویٰ دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شدت پسندی افغان جنگ کی وجہ سے پیدا ہوئی اگر ہم اس کے خلاف کھڑے نہ ہوتے تو کیا آج افغانستان ہوتا؟۔ ہمیں ایک خطرناک مسلمان ملک سمجھا جاتا ہے۔ دنیا سمجھتی ہے کہ ہم افغانستان میں دخل اندازی کررہے ہیں۔ ہماری معیشت تباہ حال ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہم طالبان کے حوالے سے ڈبل گیم کررہے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد انتہائی پیچیدہ ہے۔ افغانستان نے سرحد پر بائیو میٹرک سسٹم کو تباہ کردیا۔ مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے کہا کہ بھارت کو سی پیک میں شمولیت کی پیش کش کرتے ہیں، خطے میں امن کے لئے پاکستان سب کے ساتھ ہے۔کراچی خطرناک شہروں کی فہرست میں 42 درجے بہتر ہوا۔دنیا کے امن کیلئے فرنٹ لائن کے طور پر کھڑے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…